‘
انڈین ریاست اترپردیش کے شہر پریاگ راج (الہ آباد) میں دریائے گنگا اور دریائے جمنا کے سنگم پر جاری مہا کمبھ میں 29 جنوری کے مقدس شنان (غسل) کے دوران ہوئی بھگدڑ میں متعدد افراد کی موت کے بعد وہاں زائرین کے لیے کیے گئے انتظامات پر ہر سطح پر سوالات اٹھائے گئے۔
انڈین پارلیمان میں بھی اس کی گونج سنائی دی گئی اور ایوان بالا میں رُکن پارلیمان اور ماضی کی معروف اداکارہ جیا بچن نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس وقت سب سے زیادہ آلودہ پانی پریاگ راج میں مہا کمبھ کے مقام پر ہے۔’
اُن کے اس بیان کو ہندو مذہب کے مخالف قرار دے کر انھیں سوشل میڈیا پر شدید ٹرول کیا جا رہا ہے۔ اور اس معاملے پر بحث کا سلسلہ بڑھنے کے بعد انڈیا کے ماحولیات سے متعلق ادارے، نیشنل گرین ٹریبیونل، نے سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ سے اس ضمن میں رپورٹ طلب کر لی جس میں بتایا گیا کہ کمبھ کے علاقے میں سنگم کا پانی انسانوں کے غسل کے قابل نہیں۔

سینٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کی طرف سے نیشنل گرین ٹریبیونل (این جی ٹی) کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق مقدس دریا کے پانی میں فیکل کولیفارم (انسانوں اور جانوروں کے فضلے سے نکلنے والے جراثیم) کی بڑی مقدار پائی گئی ہے۔ یہ اسی جگہ کے پانی کی رپورٹ ہے جہاں نریندر مودی سمیت کروڑوں ہندو زائرین نے حالیہ دنوں میں مہا کمبھ کے دوران مقدس اشنان کیا ہے۔
این جی ٹی نے 17 فروری کو رپورٹ کے حوالے سے اپنے حکم نامے میں کہا ہے کہ ’فیکل کولیفارم (ایف سی) کی موجودگی کی وجہ سے دریا کے پانی کا معیار نہانے کے لیے درکار پانی کے معیار کے مطابق نہیں تھا۔ دریا میں مہا کمبھ میلہ کے دوران پریاگ راج میں نہانے والے لوگوں کی بڑی تعداد کے سبب وہاں کے پانی میں پاخانے (انسانی فضلہ) کے ارتکاز میں اضافہ ہوا ہے۔‘
تاہم اس کے باوجود انڈیا کی بہت سی معروف شخصیات اور ہزاروں عام زائرین اس مقدس غسل کے لیے یہاں پہنچ رہے ہیں جن میں وزیر اعظم نریندر مودی سمیت دیگر سیاسی، مذہبی اور شوبز کی شخصیات اور کروڑوں عام ہندو زائرین شامل ہیں۔
ریاست کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 13 جنوری 2025 کو شروع ہونے والے مہاکمبھ کے بعد سے اب تک 62 کروڑ عقیدت مند مقدس پانی میں غسل کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ اس اجتماع کے حوالے سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہے۔ 13 جنوری سے شروع ہونے والے اس اجتماع کا اختتام آج یعنی 26 فروری کو ہو رہا ہے۔
مقدس پانی کی رپورٹ میں مزید کیا گہا گیا؟
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دریائے گنگا میں کولیفارم کی سطح قابل قبول حد سے 1400 گنا زیادہ تھی اور دریائے جمنا میں یہ 660 گنا زیادہ پائی گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سی پی سی بی نے جنوری میں پانچ الگ الگ دنوں میں دونوں دریاؤں کے پانی کے نمونوں کا تجزیہ کیا، لیکن کولیفارم کی سطح کبھی بھی معیار پر پوری نہیں اُتری۔
وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ نے تاہم اصرار کیا کہ ان کی حکومت دریاؤں میں پانی کی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل نگرانی اور اقدامات کر رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’سنگم اور اس کے آس پاس کے تمام سیوریج پائپوں اور نالوں کو بند کر دیا گیا ہے اور پانی کو ٹریٹ کرنے کے بعد ہی دریا کا حصہ بننے دیا جا رہا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’فیکل کولیفارم میں اضافے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسا کہ سیوریج کا اخراج اور جانوروں کا فضلہ، لیکن پریاگ راج میں فیکل کولیفارم کی مقدار معیار کے مطابق ہے۔‘
دریائے گنگا اور جمنا کے سنگم پر پانی میں ایف سی (انسانی فضلے) کے حوالے سے ہم نے وشمبھر ناتھ مشرا سے بات کی جو بنارس میں پروفیسر ہیں اور سنکٹ موچن فاؤنڈیش کے سربراہ ہیں۔
انھوں نے دریائے گنگا کی صفائی کے قومی مشن پر نظر رکھی ہوئی ہے اور اس کی صفائی کے لیے کئی دہائیوں سے سرگرم ہیں۔
انھوں نے بی بی سی اُردو سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے مونی اماوسیہ (29 جنوری) کے مقدس اشنان سے دو دن پہلے پریاگ راج میں سنگم پر تین جگہ سے پانی کے سیمپل لیے گئے تھے جو یہ بتاتے ہیں کہ پانی نہانے کے لائق نہیں ہے۔‘
واضح رہے کہ 29 جنوری کو بھیڑ کی وجہ سے ہونے والی بھگدڑ میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ حزب اختلاف کا دعویٰ ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
پروفیسر وشمبھر نے بی بی سی کے ساتھ اپنے سیمپل کے نتائج کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے یہ نتائج سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کیے کیونکہ کچھ لوگ ہمیں ہندو مخالف اور کمبھ مخالف کہیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پانی میں بہت زیادہ انسانی فضلہ ملا ہوا ہے۔‘
اُن کے شیئر کردہ اعدادوشمار کے مطابق انھوں نے پہلے 27 جنوری کو سیمپل لیے تھے اور پھر مونی اماوسیہ کے بعد 30 جنوری کو سیمپل لیے۔ انھوں نے کمبھ کے تین مختلف مقامات اریل گھاٹ (گنگا) پھاپھامؤ (گنگا) اور پرانا پل نینی (جمنا) سے پانی کے نمونے اکھٹے کیے۔
اریل گھاٹ کے نمونے میں پہلے ایف سی کاؤنٹ فی 100 ایم ایل 11000 تھا جبکہ بعد میں 18000 پایا گيا۔ اسی طرح پھاپھامؤ پر یہ 24000 تھا جو کہ بعد میں 29000 فی 100 ایم ایل پایا گيا۔ اسی طرح اولڈ برج نینی پر یہ اہم شنان سے قبل 8000 تھا جو کہ غسل کے بعد 15000 ہو گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ’یہ واضح طور پر ٹوائلٹ کا پانی ہے جو گنگا جی اور جمنا جی میں بہایا جا رہا ہے۔‘