اے آئی سے دستاویزات میں رد و بدل کرنے والے طلبہ کا داخلہ منسوخ، فیس بھی واپس نہیں ہوگی

نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی (DU) نے انڈر گریجویٹ (UG) اور پوسٹ گریجویٹ (PG) داخلہ عمل کے دوران امیدواروں کے لیے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی طالب علم نے مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ، تبدیل شدہ یا جعلی دستاویزات جمع کرائیں تو اس کا داخلہ فوری طور پر منسوخ کر دیا جائے گا اور جمع کرائی گئی فیس بھی واپس نہیں کی جائے گی۔

یونیورسٹی کے مطابق حالیہ دنوں میں ایسے کئی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں امیدواروں نے اے آئی ٹولز کے ذریعے دستاویزات میں رد و بدل کیا یا جعلی دستاویزات تیار کرکے داخلے کے لیے درخواست دی۔ اس طرح کی کارروائیاں داخلہ عمل کی شفافیت اور ساکھ کو متاثر کرتی ہیں، اسی لیے تمام درخواست گزاروں کو صرف اصل اور مستند دستاویزات ہی اپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دہلی یونیورسٹی نے مزید کہا ہے کہ دستاویزات کی جانچ کے دوران اگر کسی بھی قسم کی جعلسازی یا رد و بدل ثابت ہوا تو نہ صرف امیدوار کا داخلہ منسوخ کر دیا جائے گا بلکہ یونیورسٹی کے ضوابط کے مطابق اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

یونیورسٹی کی فیس ریفنڈ پالیسی کے مطابق جعلی یا تبدیل شدہ دستاویزات جمع کرانے کی وجہ سے اگر داخلہ منسوخ ہوتا ہے تو امیدوار کسی بھی قسم کی فیس واپسی کا حقدار نہیں ہوگا۔ اس لیے طلبہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے تمام تعلیمی اسناد، مارک شیٹس، ذات، آمدنی اور دیگر ضروری سرٹیفکیٹس بغیر کسی ڈیجیٹل رد و بدل کے جمع کرائیں تاکہ مستقبل میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading