200 بار سانپ کے ڈسے انسان کا خون جو کئی لوگوں کی جانیں بچا سکتا ہے

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک امریکی شخص، جو جان بوجھ کر دو دہائیوں تک خود کو سانپ کا زہر لگواتا رہا، کی اینٹی باڈیز سے سانپ کے زہر کا توڑ یعنی اینٹی وینم تیار کیا گیا ہے۔

ٹم فریڈی کے خون سے ملنے والی اینٹی باڈیز سے پتا چلتا ہے کہ یہ مختلف سانپوں کے زہر کے خلاف تحفظ فراہم کر سکتی ہیں جبکہ موجودہ علاج میں ڈاکٹروں کو اس مخصوص قسم کے سانپ کی ہی ضرورت ہوتی ہے، جس نے کسی شخص کو کاٹا ہو۔

ٹم فریڈی کا 18 سالہ مشن مختلف اقسام کے سانپ کے کاٹنے کے خلاف صرف ایک ’اینٹی وینم‘ تلاش کرنے میں اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ دنیا بھر میں ہر سال سانپ کاٹنے سے ایک لاکھ 40 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں یا انھیں زندگی بھر معذوری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مجموعی طور پر فریڈی کو 200 سے زیادہ بار سانپ نے کاٹا جبکہ انھوں نے سانپ کے زہر کے 700 سے زیادہ انجیکشن بھی لیے ہیں، جو مامبا، کوبرا اور تائپن جیسے مہلک ترین سانپوں سے تیار کیے گئے تھے۔

ابتدائی طور پر فریڈی یوٹیوب پر اپنے کارناموں کو دستاویزی شکل دیتے ہوئے سانپوں سے حفاظت کے لیے اپنی قوت مدافعت بڑھانا چاہتے تھے لیکن سابق ٹرک مکینک فریڈی نے بتایا کہ جب یکے بعد دیگرے دو کوبرا نے انھیں کاٹا تو وہ کوما میں چلے گئے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں مرنا نہیں چاہتا تھا، میں اپنی ایک انگلی بھی نہیں کھونا چاہتا تھا۔‘فریڈی کہتے ہیں کہ وہ چاہتے تھے کہ وہ باقی دنیا کے لیے بہتر علاج تلاش کریں۔ ’بس پھر یہ میری زندگی کا حصہ بن گیا، میں خود کو اس کے لیے تیار کرتا رہا، مزید تیار کرتا رہا، ان لوگوں کے لیے جو مجھ سے آٹھ ہزار میل دور سانپ کے کاٹنے سے مر جاتے ہیں۔‘

‘میں آپ کے خون پر تحقیق کرنا چاہتا ہوں’
اس وقت اینٹی وینم یا زہر کے خلاف لڑنے والی دوا کی تیاری کا طریقہ یہ ہے کہ سانپ کے زہر کو جانوروں کے جسم میں ٹیکے کی مدد سے داخل کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے بعد جانوروں کا قوتِ مدافعت کا نظام اس زہر سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز یعنی ایسا مادہ پیدا کرتا ہے کہ جو اس زہر کے اثر کو ختم کرنے میں اہم کرداد ادا کرتا ہے، پھر ماہرین اسے جانور کے جسم سے حاصل کرنے کے بعد اینٹی وینم یا زہر کُش دوا بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔

لیکن زہر اور اینٹی وینم کو قریب سے پرکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے کیونکہ ہر جانور یا کیڑے کا زہر دوسرے زہریلے جانور سے مختلف ہوتا ہے۔یہاں تک کہ ایک ہی نسل کے اندر بھی وسیع اقسام ہیں – انڈیا میں سانپوں سے تیار کردہ اینٹی وینم سری لنکا میں اسی نسل کے خلاف کم موثر ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading