اس لاک ڈاؤن میں غریبوں کی اعانت وقت کا اہم تقاضا!
مولانا اسرارالحق قاسمی
نائب ناظم معہد ام حبیبہ للبنات جینگڑیا،روتہٹ، نیپال
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ "کرونا وائرس" ایک مہلک اور شدید خطرناک مرض ہے، نیز یہ کہ یہ مرض متعدی بھی ہے، جس کی وجہ سے حکومت نے پورے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے، اور اس مہلک مرض سے بچنے کے لیے، حکومت کی طرف عوام الناس کو چند احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے، جن پر عمل کرنا ہر فرد انسانی کے لئے، بے حد ضروری ہے، اس وقت پورے ملک کی صورت حال سے آپ تمام حضرات بخوبی واقف ہیں، کہ موجودہ دور میں ہر انسان بہت ہی کلفت و مشقت کی زندگی گزار رہا ہے؛مگر یہ پریشانیاں چند روزہ ہیں، جلد ہی ختم ہوجائیں گی ، اس سے گھبرانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔
لاک ڈاؤن کانفاذ ہی " کرونا وائرس" کے خاتمے کے لیے کیا گیا ہے اور اس وقت حکومت نے لوگوں کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے گھروں ہی میں مقید رہیں ،اور اپنے گھر ہی میں یہ لاک ڈاؤن کا زمانہ اپنے بچوں بچیوں کی معیت میں ہنسی خوشی کے ساتھ بسر کریں، نیزان فارغ اوقات میں کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کریں ، خصوصاً پنج وقتہ نمازیں،سنن و نوافل کے ساتھ ادا کریں، نیز ذکرواذکار، توبہ و استغفار اور دعاؤں کا بھی خوب اہتمام کریں،تب جاکر "کرونا وائرس" پر قابو پایا جاسکتا ہے، ڈاکٹر سعید احمد فیضی نے لوگوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا :کہ اگر ہمیں اپنی جان، اپنے اہل خانہ کی جان اور ملک کے عوام کی جان سے محبت ہے، تو ہمیں حکومت کی تجویز کردہ اصول و ضوابط پر سوفیصد عمل کرنے کی ضرورت ہے، اور "کرو نا وائرس "کو شکست اور مات دینے کیلئے ہمیں گھروں میں ہی مقیّد رہنا پڑے گا-
حکومت سے غفلت یہی ہوئی کہ لاک ڈان، اگر چند ایام قبل ہی سے نافذ کیا جاتا، توآج کرونا وائرس کی ،اس قدر شدت نہیں ہوتی؛ کیون کہ یہ بیماری باہر سے ،انٹرنیشنل فلائٹ کے ذریعے ہندوستان پہنچی ہے ،جو لوگ بیرون ملک سے آئے ہیں ان کے ذریعے یہ مرض ہندوستان آیا ہے، یہ مرض چین میں جس وقت پیدا ہوا اسی وقت ہی حکومت کو چاہئے تھی کہ جو لوگ باہر ممالک سے آرہے تھے ، ان کا بہتر طور پر ٹیسٹ کراتی ، اور ان کو "کورن ٹائن" میں رکھتی ، اور انٹرنیشنل فلائٹ کو وہیں روک دیتی، یعنی آغاز ہی میں لاک ڈاؤن کر دیا جاتا، تو یہ مرض آج پورے ملک میں نہیں پھیلتا، اور ملک میں اس قدر سراسیمگی نہیں پھیلتی اور لوگ چین کی زندگی گزارتے ۔
لاک ڈاؤن کے نتیجے میں ہندو نیپال کے اکثر عوام بھوک مری کے شکار ہو چکے ہیں ،بالخصوص بہار ،سیمانچل کے وہ مزدور جوممبئی ، اورپونا، اپنی بیوی بچوں کے پیٹ کی خاطر گئے ہیں ،وہ تو کچھ زائد ہی مصیبت کی زیست جی رہے ہیں ؛حتی کہ ان پرفاقے کی نوبت آچکی ہے ،اور یہ لوگ پردیس میں چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں ،یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں، کوئی بیگ بناتے ہیں،توکوئی کپڑے سیلتے ہیں،اور کوئی سلائی کڑھائی کرتے ہیں، اور کچھ لوگ تعمیراتی کمپنی میں ملازمت بھی کرتے ہیں،اور دفعتا لاک ڈاؤن نافذ ہونے کی وجہ سے ،یہ افراد فقر وفاقہ کی دہلیز پر آچکے ہیں ؛حتی کے کچھ لوگ شدت جوع کےتا ب نہ لانے کی وجہ سے راہی ملک بقابھی ہوچکے ہیں ۔
ایسے ناگفتہ بھی حالات میں غربت زدہ افراد کی اعانت اور حاجت مندوں کی حاجت روائی اسلام کی اولین ترجیحات میں سے ہے، اسی کے پیش نظر حکومت اور تنظیم بلاتفریق مذہب و ملت حاجت مندوں کی حاجت روائی اور غریبوں کی خبر گیری کر رہی ہیں، نیزیہ کہ جو صاحب ثروت حضرات ہیں، انہیں بھی چاہیے کہ وہ غریبوں کی خبر گیری کرے ،ان کے ساتھ رواداری اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرے؛ تاکہ غریبوں کو اپنی غربت کا احساس نہ ہوں اور وہ بھی خوشگوار زندگی گزار سکیں-
