۱۲جنوری اتردیش کی سیاست میں ایک نئے باب کاآغاز ہوتاہے ،نقیب ملت بیرسٹر اسدالدین اویسی جوسماجوادی حکومت میں اتردیش میں آنے کے لئے کوشاں تھے ،لیکن ان کے پروگرام کو منسوخ کردیاجاتاتھا ضلعی انتظامیہ پروگرام کی اجازت نہ دیتی تھی ،۱۲جنوری کوایک پھر نقیب ملت کی پوروانچل میں آمد تھی ،بنارس ایئرپورٹ سے جونپور کے راستہ ریاستی صدر حاجی شوکت علی کے دیار ماہل اعظم گڑھ جاناتھا ،اویسی صاحب کاقافلہ جیسے ہی بنارس ایئرپورٹ پہنچا عقیدت مندوں کاایک ہجوم تھا ،دیوانگی کاعالم قابل دید تھا ،مجلس کارکنان میں جوش جذبہ تھا ،اپنے صدر موصوف سے محبت وعقیدت کاکھل کر اظہار کررہے تھے ،فلک بوس نعروں کی صدائیں بلند ہورہی تھیں ،

یہ قافلہ جیسے جیسے جونپور کی سرحد میں داخل ہوا ہجوم بڑھتاہی گیا ،جونپور شہر میں تقریبا ۱۵۰۰بڑی گاڑیاں نقیب ملت کے استقبال کے لئے چل رہی تھیں ،چھوٹی گاڑیوں اور پیدل کی ایک بڑی تعداد تھی ،بھیڑ کااس قدر عالم تھا پیر رکھنے کی جگہ نہیں ،چھت پر کھڑی ماؤں بہنوں نے بھی اویسی صاحب سے اپنی محبت کااظہار کیا ،چھتوں پر سے ماؤں بہنوں نے پھولوں کے ذریعہ استقبال کیا ہر شخص جوش وجذبہ سے بھرپور لبریز تھا ،سوشل میڈیا اویسی صاحب کی استقبال کی ویڈیو اور فوٹوز وائرل ہوتی رہی ،گورینی مدرسہ کے پاس استقبال کامنظر یقینا قابل رشک اور قابل دید تھا ،وہ نظارہ سب سے ممتاز تھا ،

وہ ویڈیو کافی زیادہ وائرل ہوئی ،مجلس کارکنان ہر چوراہے پر اپنے صدر محترم کا استقبال کرنا چاہتے ہیں ،لیکن اس قدر زیادہ مجمع تھا کہ اویسی صاحب گاڑی سے باہر نہیں آئے ،گورینی مدرسہ میں بھی علماء کرام سے ملاقات کاپہلے سے پروگرام طے تھا لیکن اچانک اس میں تبدیلی کی کردی گئی تھی ،ظہر کی نماز گورینی میں پڑھنے کاپروگرام تھا اس لئے گورینی مدرسہ کے پاس ہزاروں کی تعداد میں پورے ضلع کے لوگ اکٹھا تھے ،

اویسی صاحب کے اس دورہ پر کوئی عوامی خطاب تونہیں ہوا لیکن اپنی طاقت اور مقبولیت کالوہامنوا گئے ،اویسی صاحب کے اس قدر مقبولیت سے سیکولر خائف اور غوروفکر پر مجبور ہیں ،جہاں یہ بات کہی جاتی تھی اویسی کے ساتھ صرف مسلمان ہیں ،یہ روایت بھی ٹوٹ گئی ،ایک بڑی تعداد غیر مسلموں کی تھی ،اوش پرکاش راج بھر بھی ایئر پورٹ پر استقبال کے لئے گئے تھے ،گاڑی میں اویسی صاحب کے ساتھ وہ بھی تھے ،اس لئے راج بھر کے حامی بھی کثیر تعداد میں اپناجھنڈا ہاتھوں میں لے کر اویسی صاحب کے استقبال میں آئے تھے،

معتبر ذرائع سے اطلاع کے مطابق بھیم آرمی کوبھی اس اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایسے وقت میں جب اویسی صاحب نے اتردیش میں اپنی طاقت کامظاہرہ کردیا سیکولر پارٹیوں کا بالکلیہ نظرانداز کرنا درست نہیں ہوگا بلکہ انہیں ساتھ لے کر انتخاب لڑنا چاہیئے ورنہ نقصان سب کاہوگا،

BiP Urdu News Groups