نئی دہلی ، 8 جنوری. (پی ایس آئی) مرکزی حکومت کی جانب سے مجوزہ عام طبقے کے لئے 10 فیصد ریزرویشن کے دائرے میں ملک کے عیسائی اور مسلم غریبوں سمیت تمام مذاہب کے لوگ آئیں گے. اس کی معلومات عوامی بہبود وزیر تھاورچند گہلوت نے لوک سبھا میں آئینی ترمیم بل کو پیش کرتے ہوئے دی. اس تجویز کی منظوری دینے والے 124 ویں آئینی ترمیم بل کو پیش کرتے ہوئے گہلوت نے کہا کہ اس کے تحت تمام طبقے کے لوگ آئیں گے. انہوں نے کہا کہ اس ریزرویشن کی بنیاد سماجی یا تعلیمی نہیں ہے بلکہ اقتصادی ہے.
اس بل کو لے کر اپوزیشن کی جانب سے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو یاد دلانے کی بات کہی گئی، جس میں اس نے 50 فیصد ریزرویشن کی حد مقرر کی گئی تھی. اس پر جواب دیتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو کیپ لگائی تھی، وہ ذات ریزرویشن کو لے کر ہی تھی. ارون جیٹلی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کئی باردہرایا تھا کہ ہم سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقوں کو ملنے والے رزرویشن پر ہی یہ حد طے کر رہے ہیں. اس کے پیچھے عدالت کا کہنا یہ تھا کہ آپ دوسرے طبقے یعنی نان رزرو طبقہ ہیں، ان کے لئے سیٹ نہیں چھوڑوگے تو پھر پرانے امتیازی سلوک کو تو ختم کیا جا سکے گا، لیکن نیا امتیاز شروع ہو جائے گا. اس توازن کو برقرار رکھنے کے لئے عدالت نے کیپ لگائی تھی.
اپنی تقریر کے دوران بائیں بازو ممبران پارلیمنٹ کے ہنگامے پر طنز کستے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ یہ دنیا کی پہلی مثال ہوگی کہ غریبوں کو ریزرویشن دیا جا رہا ہے اور کمیونسٹ اس کی مخالفت میں ہے. جیٹلی نے کہا کہ 2014 کے اپنے منشور میں کانگریس نے بھی تمام کو ریزرویشن دئے جانے کی بات کہی تھی. جیٹلی نے کہا کہ اگر آپ لوگ حمایت کر رہے ہیں تو پھر کھلے دل سے کریں.