محکمہ تعلیم بہار کی طرف سے ہائی اسکول سے اردو کی لازمیت ختم کرنے پر محبان اردو میں تشویش

مہراج گنج //تنظیم ابنائے ندوة بہار کے کنوینر و دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ کے رکن شوریٰ مولانا طارق شفیق ندوی نے اپنے پریس نوٹ میں کہا کہ اردو خالص ہندوستانی زبان ہے، جو یہیں پیدا ہوئی ، پلی بڑھی اور جوان ہوئی، ہم ہندوستانیوں نے اسی زبان میں آزادی کے گیت گائے” انقلاب،، زندہ باد کے نعرے لگائے اور ان گنت ترانے لکھے ۔ افسوس کہ آج اسی زبان کے ساتھ سرکاری اور غیر سرکاری طور پر غیر سنجیدہ روش اختیار کی جارہی ہے۔
مولانا طارق شفیق ندوی نے زور دے کر کہا کہ اردومسلمانوں کی زبان نہیں ہے کہ وہ تنگ نظری کا شکار ہوجائے ، بل کہ اردو بلاتفریق تمام باشندگان ملک کی زبان ہے، اور دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے، اردو ناول نگاری کے موجد پنڈت رتن ناتھ سرشار تھے، منشی پریم چند افسانہ نگاری کے بادشاہ تھے، دیا شنکر نسیم اردو کے بے مثال مثنوی نگار تھے، اور رگھوپتی سہائے فراق اردوکے عالمی شہرت یافتہ شاعرتھے، ان حقائق کے باوجود اردو کے ساتھ غیر منصفانہ فیصلہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے قدیم بہار سرکار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ایک زمانہ میں اردو کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جارہا تھا ، اردو مخالف تحریک زوروں پر چل رہی تھی ، اس باد مخالف میں بہار سرکار نے اردو کو دوسری زبان کا درجہ دیکر اپنی جمہوری نظام ومزاج پر اردو دنیا سے داد تحسین حاصل کیا تھا، باشندگان بہار بھی اس عادلانہ فیصلہ کو بطور نمونہ فخر سے دوسری ریاستوں کے سامنے پیش کرتے تھے۔
مولانا طارق شفیق ندوی نے کہا زمانہ کی ستم ظریفی دیکھئے کہ اسی بہار کے محکمہ تعلیم نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ ہائی اسکول سے اردو کی لازمیت ختم کرکے اسے ایک اختیاری مضمون قرار دے دیا ہے، جس سے محبان اردو میں تشویش او ر بے چینی پائی جارہی ہے، بلاتفریق اردو داں طبقہ اپنے مستقبل کو لیکر فکر مند اور مایوس نظر آرہا ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ بہار سے اپیل کی ہے کہ وہ” سب کا ساتھ سب کا وکاس ،،کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اپنے خصوصی اختیارات کو استعمال کریں، اور اس نوٹیفکیشن کو رد کریں ،نیز اردو اساتذہ کی بحالی کا راستہ بھی ہموار کریں۔