’’۔۔۔ آپ کا بچہ اُردو بولتا ہے۔!!‘‘

نومبر کا(9) نواں دن ’ یوم ِ اُردو سے موسوم ہے، کل جمعہ کو یہ دِن بھی گزر گیا، مگر اُردو جس حال میں ہمارے ہاں پرسوں تھی، ویسی ہی کل بھی رہی اور اس کے حق میں آنے والے کل کے آثار بھی ایسے ہی ہیں، البتہ ایک فرق ماضی بعید اور حال میں ضرور واضح ہے کہ کل اس کے جو مجاہدین تھے(اکثر) وہ مالی طور پر بد حال تھے مگر اپنی زبان کے علم و ادب اور دیگر فنون میں وہ دورِ حاضر کے مال دار اُردو والوں سے بہر لحاظ آسودہ تھے۔ آسودگی کے معنیٰ عموماً ہمارے یہاں مالی کشادگی ہی کے، لئے جاتے ہیں مگر بغور دیکھا جائے تو یہ لفظ اپنے آپ میں نہایت وسیع معنوی حیثیت کا حامل ہے مگر یہ بھی واضح رہے کہ ہر چیز، ہرعمل اپنی ایک حد رکھتا ہے، اُس حد کو عبور کیا تو بس۔۔۔ سارا حسن یک لخت غارت ہوجاتا ہے، ہمارے ہاں تقدیس اور تحریم کا ایک تصور ہے کہ آپ آبِ نجس میں چاہے جتنا
آبِ زمزم ملاتے رہیے وہ اپنی نجاست سے پاک نہیں ہو سکتا ہے، اسکے برعکس آپ سادہ پانی میں’ آبِ زمزم‘ ملا دِیجیے توو ہ سادہ پانی آبِ زم زم کے درجے کو پہنچ جاتا ہے۔ زبان میں بھی یہ عمل ہے۔
بات اُردو کی چل رہی ہے اس زبان کی کچھ نزاکتیں ہیں، مگر یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ یہ نزاکتیں دوسری زبانوں میں بھی کسی طورپائی جاتی ہیں مثلاً چاقو کے معنوں میں انگریزی لفظ نائیف(Knife)
ہے، آپ اس لفظ کو لکھ رہے ہیں اور لکھتے ہوئےآپ نے اس کا اوّل حرفK نہیں لکھا، یعنی جیسے بولتے ہیں ویسے لکھا، اب ہوگا یہ کہ انگریزی کا عالِم تو جانے دِیجیے معمولی انگریزی شناس بھی زبان سے نہ کہے مگرد ِل میں اس کے یہی ہوگا کہ ’یہ حضرت انگریزی سے نابلد ہیں‘ اور ایک صورتِ حال یہ بھی ہے کہ’’ اگر آپ انگریزی نہیںجانتے تو کچھ نہیں جانتے!‘‘
آپ چاہے اُردو یاعربی کے جتنے بڑے عالِم ہوں ، ۔۔۔’’ ہوا کریں۔!‘‘
یہ رویہ صرف زبان ہی میں نہیں اس عمل نے ہمارے ہاں کیسے اور کہاں کہاں در اندازی کر رکھی ہے، بتائیں تو ایک بہی کھاتا بن جائے گا ۔ پچیس تیس برس اُدھر کی بات ہے عزیزِ محترم قیصر الجعفری نے اپنے دور قریب کے ایک عزیز سے تعارف کرایا کہ’’ ندیم میاں ! اِن سے ملیے یہ۔۔۔فاروقی ہیں‘‘، جناب سے گفتگو ہوئی تو پتہ چلا کہ اللہ نے انھیں بہر طور آسودہ کر رکھا ہے مگر جب غور کیا تو واضح ہوا کہ ایک خانہ خالی ہی نہیں وہاں تاریکی بھی ہے۔ کہنے لگے کہ بھئی مجھے اپنے بیٹے کے رشتے کیلئے لڑکی کی تلاش ہے ۔ انھیں اپنی مطلوبہ بہو میں جو خوبیاں درکار تھیں ان میں سب سے پہلی خوبی یہ تھی کہ میرا لڑکا ماشا اللہ قد آور ہے لہٰذا مطلوبہ بہو بھی اس کے قد سے مناسبت رکھتی ہواورانگریزی میڈیم نہیں بلکہ کانوینٹ اسکول کی تعلیم یافتہ بھی ہونی چاہیے، وہ لڑکی چاہے جتنی فیشن ایبل ہو، اس کی دیگر عادتیں چاہے جیسی ہوں وہ سب گوارا ہوںگی اور وہ قدآور ہی نظر نہ آئے بلکہ کانوینٹ اسکول کی پڑھی ہوئی بھی ہو۔ ہم مسکرا کررہ گئے، پھر وہ فاروقی کبھی نہیں ملے، مگر گزشتہ دِنوں وہ ملے تو نہیں مگر ایک تذکرے میں اُن کا سراغ ملا۔ راوی نے بتایا کہ موصوف لکھنؤ میں ہیں اور حال یہ ہے کہ اپنے بیٹے کے ہوتے وہ ۔ ۔۔ بس ایک جملے میں یوں سمجھیے بے گھر اور لاوارثوں کی زندگی جی رہے ہیں۔ یہ سُن کر اچھا تو نہیں لگا مگر یہ بھی احساس ہوا کہ آدمی کو وہی ملتا ہے جس کیلئے وہ جستجو اور جدوجہد کرتا ہے ۔
کسی بزرگ کی بتائی ہوئی دُعا یاد آتی ہے کہ اللہ سے وہ مت مانگو جو تمہیں اچھا لگ رہا ہو بلکہ اپنے رب سے وہ مانگو جو تمہارے حق میں بہترہو۔ ہمارے ایک بزرگ عبدالرؤف مرحوم بتاتےتھے کہ آزادی کے فوراً بعد ہندوستانی مسلمانوں کے ایک طبقے کی طرف سے الگ ملک کا جب مطالبہ ہُوا اور اس مطالبے نے زور پکڑا تو نتھّو بھائی اورخیرو چچاؔ ہی نہیں اچھے خاں اور سید السیدین جیسےلوگ بھی نعرے لگا رہے تھے:
’’چاہے ہماری جائے جان، لے کے رہیں گے پاکستان‘‘
ایسے نعروں نےایک آندھی کی صورت اختیار کر رکھی تھی۔ ماہِ مبارک رمضان میں دُعائیں مانگی گئیں، اللہ رحیم و کریم نے دُعا قبول کرلی۔
اب ملک کی تقسیم کا اعلان ہوگیا، یہاں سے پاکستان کیلئے لوگ قافلے دَر قافلے کی صورت روانہ ہونے لگے، پھر یوں ہوا کہ برّی راستے میں( دونوں طرف ) شدت سے خون خرابے ہی کی نہیں عورتوں کے اغوا کی خبریں بھی لوگوں تک پہنچیں، اب وہی لوگ جو کل تک نعرے ہی نہیں لگا رہے تھے بلکہ دُعا بھی مانگ رہے تھے کہ ’’ چاہےہماری جائے جان، لے کے رہیں گے پاکستان ‘‘
اب خون خرابے سے پریشان، ایک خدا ترس بزرگ کے پاس پہنچے کہ’’ دُعا کر دِیجیے کہ یہ خون خرابہ بندہوجائے۔ ‘‘
تو راوی کا بیان ہے کہ بزرگ نے نہایت کرختگی سے یہ کہہ کر لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا کہ
’’ جس دُعا کو ایک بار قبول کر لیا جائے تو پھر اس کی رد میں دُعا مانگنا قدرت کے غیظ کو دعوت دینے کے مترادف ہے، اب خون بہا کر ہی پاکستان ملے گا،جاؤ جو مانگا تھا، اُسے بھگتو! ‘‘
پاکستان مانگا گیا، مل گیا مگراس پورے ستر برسوں میں ہم کیا، دُنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستانیوں ہی کے ہاتھوں اپنے ملک کی دُرگت، وہاں کےعوام کی بد حالی اورایک خاص طبقے کی خوشحالی نہیں من مانی۔۔۔ نے جو صورت پاکستان کی بنا دِی ہے وہ ہم جیسوں کو دیکھ کر شدید دُکھ ہوتا ہے کہ بہر حال وہ ہمارا پڑوسی ملک ہے مگر ہمارے دُکھ سے کیا ہونا ہے، حالات تو بدلنے سے رہے ۔ ایک روایت یہ بھی بیان ہوجائے کہ مولانا ابوالکلام آزاد جو اِس تقسیم کے شدید مخالف تھے جب پاکستان بن گیا تو انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان جیسے بنا، بن گیا ،اب ہماری دُعا ہے کہ یہ جیسا ہے قائم رہے، مگر بیچارے پاکستانی اپنے ایک حصے کو گنوا بیٹھے، وہاں مذہب کے نام پر قتل وغارت گری ایک عام سی بات ہے۔
مولانا حسرت موہانی سے پوچھا گیا تھا کہ آپ پاکستان کیوں نہیں گئے۔؟
جواباً اِس مرد ِحق پرست نے جو کہا وہ آج بھی غور طلب ہے ۔ حسرتؔ کا جواب تھا:(مفہوم)’’ وَہاں گیا ہوتا تو کسی مسلمان ہی کے ہاتھوں کافر کہہ کرمارا جاتا، یہاں تو یہ ہے کہ مسلمان سمجھ کر مارا جا ئے گا ۔‘‘
یہ پورا جملہ معنوی درد سے بھرا ہوا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ پاکستان میں اُردو کے تعلق سے حسنِ ظن رکھتے ہیں مگر وہاں بھی اس تعلق سے فضا مسموم ہوتی جارہی ہے، پاکستان کے ایک معروف صحافی امر جلیل کا ایک جملہ پڑھیے:
’’بٹوارے کے بعد پاکستان میں اُردو کے ساتھ کیا کچھ ہوا کس کس طریقے سے اُردو کا استحصال کیاگیااور کس کس طرح سے اُردو کا غلط استعمال ہوا۔ تعجب کی بات ہے کہ بٹوارے سے پہلےان علاقوں میں جن پرمشتمل پاکستان بناہواہےاُردو بڑے پیاراور چاہ سے بولی جاتی تھی ۔پاکستان بننے کے فوراً بعد اردو پاکستان میں متنازع زبان بن گئی ۔‘‘( روزنامہ جنگ، کراچی۔ 13جون2017)
پاکستان ہی کی ممتاز ماہر تعلیم ڈاکٹرعارفہ سیدہ زہرہ کا ایک انٹروِیو حال ہی میں سنا اور دیکھا جس میں انہوں نے پاکستان میں اُردو کی زبوں حالی پر جو تبصرہ کیا ہے،وہ اُردو کے تمام مخلصین کیلئے شدید تکلیف دِ ہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ایک نظام ِتعلیم ہے جسے انگریزی میڈیم کہتے ہیں ، جس میں
’’سمجھ دار صاحبِ ثروت‘‘ لوگوں کے بچے پڑھتے ہیں، جہاں سے وہ منہ ٹیڑھا کرکے بولنا سیکھ کر آتے ہیں۔ ان درس گاہوں میں طلبہ اگر فرصت کے اوقات میں اپنے ہم جولیوں سےاُردو میں گفتگو کرتے ہیں تو انھیں متنبہ کیا جاتا ہے اور اگر یہ حرکت تیسری بار ہوجائے تو اسکول میں ان کے والدین کو طلب کر لیا جاتا ہےکہ
’’۔۔۔ آپ کا بچہ اُردو بولتا ہے۔!! ۔۔۔‘‘
ڈاکٹر عارفہ سیدہ کوجو قارئین سننا چاہیں وہ اس موبائیل نمبر(9323786610) پر رابطہ کریں ہم اُنھیں وہاٹس ایپ پر یہ انٹرویو بھیج دیں گے۔ انگریزوں کو گئے ہوئے ستر برس سے زائد مدت گزررہی ہے مگر ان کی ذہنی غلامی سے ہم اب تک آزاد نہ ہوسکے، اس دُعائیہ پریہ کالم تمام کرتے ہیں کہ اللہ جو چاہے بنائے مگر کسی کا غلام نہ بنائے اور ایسا غلام تو ہرگز نہیں۔
اس کالم میں ایک فاروقی کی مطلوبہ بہو کا ذکر کیا گیا ہے لہٰذا اب ایک بہو کا یہ شکوہ بھی سُن رکھئے:
’’ اُردو سے اُسی دِن میرا اعتبار اُٹھ گیا ، جب مجھے معلوم ہوا کہ ساس کو اُردو میں’ خوش دامن‘ کہتے ہیں۔‘‘

ندیم صدیقی

روزنامہ ’’ممبئی اُردو نیوز‘‘ کا کالم
’’ شب و روز‘‘

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading