جی ہاں آج میں بزات خود آپ سے مخاطب ہوں… بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ مجھے مخاطب ہونا پڑا…
اوہ نہیں…
جی بالکل بھی نہیں….
ایسا نہیں ہے کہ آپ اشرف المخلوقات ہیں تو میں آپ سے مخاطب ہونے کے لئے بےچین تھا…بلکہ یہ تو میری مجبوری ہے کہ میں آپ سے مخاطب ہوں…
لو جی میں بہکنے لگا…. . چلیں میں مدے پر آتا ہوں…
پہلے میں مختصراً آپ کو اپنا تعارف کراتا چلوں….
ویسے تو آپ سب ہی مجھے اچھی طرح جانتے ہیں…
برسوں پہلے میرا وجود ہوا اور میں دھیرے دھیرے آپ کی ایک اہم ضرورت بنتا گیا… جی ہاں خاکسار کو موبائیل کہتے ہیں…
میں ترقی کے مختلف ادوار سے گزرتا ہوا آج نہایت ہی خوبصورت شکلوں اور عمدہ سہولیات کے ساتھ آپ کو دستیاب ہوں…. افوہ… آپ تو میری تعریف سن کر ناک بھوں چڑھانے لگے……
خیر میں اپنے مقصد کی طرف آتا ہوں….
تو حضرات آج آپ سے مخاطب یوں ہونا پڑا کہ مجھے بہت زیادہ تنقیدوں کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے…
جب آپ کے بزرگ کہتے تھے کہ میں نے نئی نسل کو برباد کر دیا ہے تو میں دل پر پتھر رکھ کر صبر کر لیا کرتا تھا……. مگر حد تو یہ ہے کہ اب نوجوانوں نے بھی یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اگر موبائیل نہ ہوتا تو ہم آج شریف ہوتے….
او بھائیو….! خُدا کے لئے…. اپنی غلطیوں کا الزام مجھے تو نہ دو…..
ارے میرا تو وجود ہی ہوا تھا نعمت کی طرح…. میں تو آپ کے لئے ضرورت بن کر آیا تھا…… مگر آپ نے میرا اتنا گندہ استعمال کیا کہ میرا وجود شرم سے پانی پانی ہوگیا…..
کیا میں اسلئے وجود میں آیا تھا کہ آپ میرے زریعے اپنی ہوس کی تسکین کریں؟؟؟؟
کہاں ہے آپ کا وہ اشرف المخلوقات کا لیبل؟؟؟ اسے تو آپ نے بہت پیچھے کہیں کھو دیا….
آج آپ کی تخلیق صرف گندی زہینیت کی آماجگاہ بن کر رہ گئی ہے…..
یاس کرو وہ دور…. جب دنیا کی ہر مخلوق،آپ سے مخاطب ہونے کے لئے بے چین رہا کرتی تھی… اور آج…. آج آپ سے مخاطب ہونا صرف میری ایک مجبوری ہے…..
خُدا کے لئے اپنے وجود کو پہچانو اور مجھے بدنام نہ کرو…
ارے میں تو ایک ضرورت ہوں…. ایک نعمت ہوں….. خُدا کے لئے مجھے زحمت نہ بناؤ……
بس یہی کہنا تھا
خُدا حافط
آپ کا اپنا موبائیل…..!
از قلم: اطہر کلیم انصاری، ناندیڑ