کہتے ہیں ایک بہت بڑے بزرگ کی خانقاہ تھی۔ اس میں ان کے کئی مرید تزکیہ و تربیت کیلئے رہا کرتے تھے، مرشد کا ایک خاص مرید تھا اور اس مرید کو مرشد کی قربت پر اور خانقاہ میں رہنے پر بڑا ناز تھا۔ ایک دن مرید مرشد کے پاس دو زانو ہوکر بیٹھ گیا اور بتایا کہ وہ ذکر و سلوک کی نئی منازل طئے کرنا چاہتا ہے۔۔۔
مرشد نے کہا کہ ٹھیک ہئ اب سے تمہارا وظیفہ یہ ہوگا کہ تم کسی سے بات نہیں کرو گے اگر کوئی بھی تم سے کچھ بھی پوچھے تو صرف ایک ہی بات کہنا:
"یہاں بھی وہ ہے۔ وہاں بھی وہ ہے۔”
اب مرید خاص کو کوئی بھی کچھ بھی پوچھتا تو وہ صرف یہی کہتا کہ:
"یہاں بھی وہ ہے اور وہاں بھی وہ ہے۔”
کئی دن گزرنے کے بعد مرشد اپنے مرید خاص کو بلایا اور پوچھا کہ "وہ” کون ہے؟؟
مرید خاص نے جواب دیا کہ "مجھے نہیں معلوم۔” اسطرح کئی ہفتوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا آخر ایک دن جب مرشد نے پوچھا کہ "وہ” کون ہے جو یہاں بھی ہے اور وہاں بھی؟؟ اس نے کہا کہ حضرت "وہ” خدا ہے جو یہاں درگاہ میں بھی موجود ہے اور بازاروں اور گلیاروں میں بھی موجود ہے۔ مرشد بہت خوش ہوئے اور کہا چلو تم نے ایک اہم منزل طئے کرلی ہے۔ مرید نے ان سے گزارش کی کہ اب کوئی نیا وظیفہ بتائیں؟؟
مرشد نے کہا کہ اب سے تمہارا وظیفہ یہ ہوگا کہ تم کسی سے بات نہیں کرو گے اگر کوئی شخص تم سے بات کرے تو اس سے صرف ایک ہی بات کہو گے کہ:
"یہاں بھی وہ ہے۔ اور وہاں بھی وہ ہے۔”
ہر ہفتہ مرشد اس سے پوچھتے کہ اب وہ "کون” ہے؟؟ تو مرید کچھ نہیں کہہ پاتا۔ آخر کئی ہفتوں بعد مرشد نے پوچھا کہ بتائیے کہ اب "وہ” کون ہے تو اس نے کہا کہ حضرت اب میں جان گیا ہوں کہ وہ "شیطان” ہے۔ جو یہاں خانقاہ میں بھی موجود ہے اور اسکے باہر بھی۔ مرشد بہت خوش ہوئے اور کہا کہ تم نے کیا سمجھ رکھا تھا کہ شیطان پتھروں کے حصار والی درگاہ میں نہیں آسکتا؟؟ اس طرح تو شیطان نے تمہیں زعم میں مبتلاء کرکے تمہاری اصلاح کے دروازے بند کرادیئے تھے۔
کہتے ہیں کہ تب سے مرید خاص نے درگاہ سے باہر رہنے والوں کو اپنے سے کم تر سمجھنا اور ترچھی نگاہ سے دیکھنا چھوڑ دیا۔ اور اسے یہ بات سمجھ میں آگئی کہ کسی کو کمتر سمجھنے سے اس شخص کا تو کچھ نہیں جاتا البتہ اس زعم کی وجہ سے خو اپنی اصلاح کے دروازے بند ہوجاتے ہیں۔
اکثر لوگ جو کسی خاص مسلک، مذہب، خانقاہ، درگاہ، تنظیم، تحریک، جماعت، جمعیت یا مدرسہ سے وابستہ ہوں باہر کے لوگ ان کو اور انکے ظاہر کو دیکھ کر یہی رائے قائم کرتے ہیں کہ یہ نیک و پارسا لوگ ہیں۔
اور خود فرد کو بھی یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ بہت نیک پارسا ہے۔۔۔
لیکن سب یہ بھول جاتے ہیں کہ:
"یہاں بھی وہ ہے۔ اور وہاں بھی وہ ہے۔”