یوگی راج میں قبرستان کیلئے جگہ نہ دینے پر مسلمان گھر میں تدفین کرنے پر مجبور

آگرہ، 20جون(پی ایس آئی)’آپ میری دادی کی قبر پر بیٹھی ہیں،’ سلیم شاہ نے آگاہ کرتے ہوئے کہا. سلیم نے بتایا، انہیں یہیں بیٹھک میں دفن کیا گیا تھا. یوپی میں آگرہ واقع اچھنےرا بلاک کے گاو¿ں چھ پوخر کے ان مٹھی بھر مکانوں میں رہنے والے خاندانوں کے گھر قبرستان بن چکے ہیں. گاو¿ں میں قبرستان نہ ہونے سے یہ لوگ اپنے مردہ اہل خانہ کو گھروں میں ہی دفن کرنے پر مجبور ہیں. اسلئے،مرحوم یہاں روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گئے ہیں.یہاں یہ بھی دیکھا گیا کہ خواتین جہاں کھانا بنا رہیں تھی اس کے بغل میں ہی ان بچوں کی قبریں ہیں، گھر کے پچھواڑے جہاں بزرگ سستا رہے تھے وہاں بھی قبریں ہی قبریں تھیں.ایک گھر میں رنکی بیگم نے بتایا کہ ان کے گھر کے پچھواڑے پانچ لوگوں کو دفن کیا گیا ہے. ان میں ان کا دس ماہ کا بیٹا بھی شامل ہے، جس کی جان وقت پر علاج نہ کرا پانے کی وجہ سے ہو گئی تھی. یہیں رہنے والی ایک دوسری عورت، گڈڈی کہتی ہیں، ‘ہم غریب لوگ عزت کی موت بھی نہیں مر سکتے. گھروں میں جگہ کی کمی ہے، اس لئے ہمیں قبروں کے اوپر ہی بیٹھنا اور چلنا پڑتا ہے. یہ بڑی بے عزتی ہے. ‘یہاں رہنے والے زیادہ تر مسلم خاندان غریب اور بے زمین ہیں. ان خاندانوں کے مرد ٹھیکے پر اجرت کرتے ہیں. ان کا کہنا ہے کہ ایک قبرستان کی انکی مانگ برسوں سے مسترد کی جا رہی ہے.انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ وقت پہلے قبرستان کے لئے جو زمین کا ٹکڑا انہیں مختص کیا گیا ہے، وہ ایک تالاب کے بیچ میں پڑتا ہے. انتظامیہ کے سامنے بار بار فریاد کی گئی لیکن اس کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی. اب رہنے والوں کے سامنے میں جگہ کی کمی کا مسئلہ اٹھرہا ہے. گھر میں تازہ بنی قبروں کو اب سیمنٹ سے پکا نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے زیادہ جگہ گھرتی ہے. قبر کو دوسری جگہ سے مختلف دکھانے کے لئے بس ان کے اوپر چھوٹے بڑے پتھر رکھ دیے جاتے ہیں.اس معاملے پر احتجاج کے سر بھی گونجے ہیں. سال 2017 میں یہاں کے رہائشی منگل خان کی موت کے بعد ان کے خاندان نے ان کے جسم کو اس وقت تک دفن کرنے سے انکار کر دیا تھا جب تک کہ گاو¿ں کو قبرستان کے لئے زمین نہیں مہیا کرا دی جاتی. حکام کی یقین دہانی کے بعد خاندان نے منگل خان کو تالاب کے کنارے دفن کیا. لیکن سرکاری یقین دہانی کھوکھلی ثابت ہوا.منیم خان ایک فیکٹری میں کام کرتے ہیں. وہ کہتے ہیں، ‘ہم اپنے باپ دادا کے لئے تھوڑی زمین مانگ رہے ہیں. گاو¿ں کی سرحد پر ہندوو¿ں کا شمشان ہے، لیکن ہم تو مردوں کے ساتھ رہ رہے ہیں. ‘پریشان گاو¿ں والوں نے قریبی سانن گاو¿ں اور اچھنےرا قصبے کے قبرستانوں میں بھی اپنوں کو دفن کرنے کی کوشش کی. لیکن وہاں کے لوگ بھی اپنی زمین دینے کو تیار نہیں ہے. نظام خان ایک میکینک ہے، وہ کہتے ہیں، ‘ان دیہات کی چھ پوخر سے زیادہ مسلم آبادی ہے. انکے قبرستان پہلے ہی بھرے ہوئے ہیں. ‘گاو¿ں کےپردھان سندر کمار کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار حکام کو بلا کر مسلمان خاندانوں کے لئے قبرستان کے لئے زمین دلوانے کی بات کہی ہے لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی. ضلع مجسٹریٹ رویکمارا ین جی کہتے ہیں کہ انہیں اس بات کی معلومات نہیں تھی. انہوں نے کہا، ‘میں افسران کی ایک ٹیم گاو¿ں میں بھیجوں گا اور قبرستان کے لئے ضروری زمین کابیورا منگواﺅگا.

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading