یوپی اسمبلی: پرینکا گاندھی کو سون بھدر جانے سے روکنے اور حراست پر زبردست ہنگامہ

لکھنؤ: ریاستی حکومت کے ذریعہ کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کو سون بھد رجانے سے روکنے، انہیں 27 سے زیادہ گھنٹوں تک حراست میں رکھنے و ریاست میں ایس پی حامیوں کے ہوئے رہے قتل پر یو پی اسمبلی میں کانگریس و ایس پی اراکین نے جم کر ہنگامہ کیا۔

یہ دونوں مسائل پیر کو اسمبلی میں وقفہ صفر کے دوران اٹھائے گئے اور اپوزیشن و حکومت کے درمیان خوب گرما گرم بحث ہوئی۔جہاں ایس پی اراکین اسمبلی سماج وادی پارٹی کے حامیوں کے قتل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے باہر نکل گئے تو وہیں کانگریس نے ویل میں پہنچ کر احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جس کی وجہ سے اسپیکر نے اسمبلی کی کاروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی۔

کانگریس رکن اسمبلی اجے کمار للو نے مرزا پور میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا کی حراست کا معاملہ اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت کا یہ رویہ جمہویت کے خلاف اور شہری حقوق کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ہماری لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا متاثرین کےاہل خانہ سے ملاقات کے لئے جارہی تھیں لیکن حکومت نے انہیں روک دیا۔تاہم حالات اس وقت کافی ہنگامہ خیز ہوگئے جب ریاستی پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ نے یہ کہا کہ کانگریس لیڈر وہاں صرف فوٹو کھینچانے کے لئے جارہی تھیں۔

وزیر کے اس تبصرے کو سنتے ہی کانگریس اراکین اسمبلی ویل میں کود گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔اسپیکر ہردے دیکشت نے بھی کانگریس اراکین کو اس معاملے کو نہ اٹھانے اور اس پر پہلے سے ہی بحث ہونے کا حوالہ دے کر خاموش کرانے کی کوشش کی لیکن کانگریس اراکین نے نعرے بازی جاری رکھی بلا ٓخر اسپیکر نےہاؤس کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردی۔

اس سے قبل وقفہ صفر کے دوران ایس پی رکن اسمبلی سنجے گرگ نےدعوی کیا کہ لوک سبھا انتخابات کے اختتام کے بعد اب تک 28 اضلاع میں 50 سے زیادہ ایس پی حامیوں کا قتل کیا جاچکا ہےانہوں نےالزام لگایا کہ ریاستی حکومت ایس پی حامیوں کے قتل کی سازش میں ملوث ہے۔

اپوزیشن لیڈر رام گوند چودھری نے بھی الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت اپوزیشن پر حملہ آور ہے اور خون کی سیاست کررہی ہے جوکہ جمہوری اقدار کے خلاف ہے‘‘ ریاست میں کوئی بھی نظم ونسق نہیں ہے اور جرائم پیشہ افراد کو برسراقتدار پارٹی کی جانب سے کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔

تاہم ریاستی پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ نے ایس پی کے الزامات کو خارج کرتے ہوئے کہا یوگی آدتیہ ناتھ کے اقتدار میں مجرموں کو مارا گیا ہے اور ریاست میں مکمل طور سے نظم ونسق کا ہی راج ہے۔اس کے بعد ایس پی اراکین ہنگامہ کرتے ہوئے اسمبلی سے باہر چلے گئے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading