یقیں محکم، عمل پیہم……. اویس سید کی تعلیمی پیش رفت

بقلم: ایم۔ایم۔سلیم۔(آکولہ)

انسان میں اگر واقعی کچھ کرنے کا جذبہ اور چاہت ہو تو پھر وہ کبھی ناکام و نامراد نہیں ہوتا۔شرط یہ ہے کہ اس میں سچی محنت، تڑپ اور لگن ہو۔پھر چاہے کتنی ہی مصیبتیں کیوں نہ پیش آئیں، فتح و کامرانی اسکا مقدر بن کر ہی رہتی ہے۔ ایسے ہی ایک ہونہار طالب علم ہیں…

سید اویس سید امیر جنہوں نے اپنے بل بوتے پر خود کو درپیش ساری مصیبتوں کا سامنا کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی۔

سید اویس سید امیر

حال ہی میں سنت گاڈگے بابا امراؤتی یونیورسٹی کے ایم۔ ایس۔ سی۔ کے نتائج کا اعلان ہوا۔ جس میں شیواجی کالج آکولہ میں زیرتعلیم سید اویس سید امیر نے ایم۔ایس۔سی۔ بوٹنی ( علم نباتیات) میں پوری یونیورسٹی میں چوتھا مقام حاصل کیا ہے۔ اویس نے کل 78.08 فیصد نمبرات حاصل کیے ہیں۔
اویس کا تعلق اکولہ ضلع کے شہر پاتور سے ہے۔ ان کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ والد پیشے سے کسان ہیں ۔اویس نے بارہویں تک تعلیم اردو میڈیم سے ہی حاصل کی ہے۔ کچھ ہی روز قبل ان کا کنبہ اپنے جواں سال بیٹے کی ناگہانی موت کے غم سے بڑی مشکل سے ابھرپا یا ہے۔اب گھر کی ساری ذمہ داری اویس پر ہے جو پڑھائی کے ساتھ دیگر ذمہ داریاں بھی اٹھائے ہوئے ہیں۔ بھائی کی ناگہانی موت اور اور دیگر مشکلات کو بالائے طاق رکھ کر اویس نے اپنی پڑھائی جاری رکھی اور کامیابی حاصل کی۔ یہ ساری پریشانیاں اور مشکلات بھی اویس کی کامیابی کو روک نہیں سکیں۔ GAT کے امتحان کے باعث موصوف جلسئہ تقسیم اسناد کی تقریب میں بھی شرکت نہیں کرسکے۔ اس پر وقار اعزازی تقریب میں موصوف کے والد محترم نے شرکت کی اور اپنے ہونہار فرزند کا انعام اپنے ہاتھوں سے لیا۔ ایک والد کے لیے اس سے بڑھ کر فخر کی بات کیا ہو سکتی ہے؟

فی الحال اویس مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کررہے ہیں۔

ہم اس موقع پر اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں مزید کامیابی وکامرانی عطاء فرمائے نیز موبائل اور سوشل میڈیا کی لت میں جکڑے ہوئے ملت اسلامیہ کے نوجوانوں کے لئے انہیں ایک روشن مثال بنادے…. آمین

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading