دہلی کے کڑکڑڈوما کورٹ نے جیل میں بند شرجیل امام کو اس کے چچیرے بھائی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے عبوری ضمانت دے دی ہے۔ یہ عبوری ضمانت 4 سے 10 اکتوبر تک دی گئی ہے۔ شرجیل امام پر 2020 کے شمال مشرقی دہلی فساد کی سازش کے معاملے میں غیرقانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) اور دیگر قانونی دفعات کے تحت مقدمہ چل رہا ہے۔ امام کو یہ عبوری ضمانت اس لیے دی گئی ہے تاکہ وہ مقررہ مدت کے دوران اپنے چچیرے بھائی کی شادی کی رسومات میں شامل ہو سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے شرجیل امام کی اس عرضی پر دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا جس میں اس نے ٹرائل کورٹ کے ذریعہ ریگولر ضمانت نہ دیے جانے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور وکاس مہاجن کی ڈویژن بنچ نے پولیس سے جواب طلب کیا تھا اور معاملے کی آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کی تھی۔ ٹرائل کورٹ نے پہلے امام اور شریک ملزم عمر خالد کی ریگولر ضمانت کی عرضیاں خارج کر دی تھیں۔ عدالت نے سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے اس حکم کا حوالہ دیا تھا جس میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا اور وہ حالات بھی بتائے گئے تھے جن میں وہ اپنی عرضیاں دوبارہ داخل کر سکتے تھے۔
دراصل رواں سال کی شروعات میں سپریم کورٹ نے شرجیل امام اور عمر خالد کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ استغاثہ کے پیش کردہ ثبوتوں کو پہلی نظر میں دیکھنے سے ایسا لگتا ہے کہ ان پر یو پی اے کی دفعہ 43ڈی(5) کے تحت قانونی پابندی عائد ہوتی ہے، جبکہ 5 دیگر شریک ملزمان کو ضمانت دے دی گئی تھی۔ دوسری جانب حال ہی میں سپریم کورٹ نے شریک ملزم تسلیم احمد اور خالد سیفی کو 6 ماہ کی عبوری ضمانت دی تھی۔ ساتھ ہی عدالت نے ایک بڑی بنچ کو یہ سوال بھیجا تھا کہ کیا یو اے پی اے کی دفعہ 43ڈی(5) کے تحت پابندیوں کے باوجود طویل عرصے تک جیل میں رہنے اور ٹرائل میں تاخیر کی بنیاد پر ضمانت دی جا سکتی ہے۔
دہلی پولیس نے ہائی کورٹ میں شرجیل امام اور عمر خالد کی ضمانت کی عرضیوں کی مخالفت کی ہے۔ پولیس نے انہیں مبینہ سازش کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے اور دلیل دی ہے کہ سپریم کورٹ کے 5 جنوری کے حکم کو دیکھتے ہوئے ان کی نئی عرضیاں قابل غور نہیں ہیں۔ یہ معاملہ فروری 2020 کے دہلی فساد کے پیچھے کی مبینہ بڑی سازش سے متعلق ہے۔ شرجیل امام ان ملزمان میں شامل ہیں، جن کے خلاف یو اے پی اے اور دیگر قانونی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔