ہوشیار! ہندوستان میں کورونا انفیکشن کا عروج باقی ہے

نئی دہلی۔پوری دنیا میں اپنا قہر برپا رہے کورونا وائرس کا حملہ ہندوستان میں بھی جاری ہے۔ روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں نئے معاملے سامنے آ رہے ہیں اور مہلوکین کی تعداد بھی لگاتار بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ہندوستان میں اب تک تقریباً 13500 لوگ اس وائرس کی زد میں آ چکے ہیں جب کہ مہلوکین کی تعداد 450 کے قریب پہنچ گئی ہے۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ یہ ہندوستان میں کورونا کا عروج نہیں ہے، عروج آنا تو ابھی باقی ہے۔دراصل وزارت داخلہ سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کے بارے میں جو تجزیہ کیا ہے، اس کے مطابق ہندوستان میں کورونا کے معاملے مئی کے پہلے ہفتے میں اپنے عروج پر ہوں گے۔ این ڈی ٹی وی نے وزار ت داخلہ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ ابھی کورونا کے معاملے مزید تیزی سے بڑھیں گے اور اس کا عروج مئی میں دیکھنے کو ملے گا۔ ساتھ ہی ذرائع کا کہنا ہے کہ مئی کے پہلے ہفتہ کے بعد کورونا کا اثر کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

بتایا جا رہا ہے کہ جن ریاستوں نے پہلے لاک ڈاؤن کیا تھا، ان ریاستوں کی حالت کافی بہتر رہنے کی امید ہے۔ راجستھان، پنجاب اور بہار حکومت نے کورونا کے معاملوں کو دیکھتے ہوئے ملک گیر لاک ڈاؤن سے پہلے ہی اپنی ریاستوں میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش، گجرات اور مہاراشٹر کے مقابلے میں ان ریاستوں میں کورونا کے کم معاملے سامنے آئے۔

ایک سینئر افسر نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ حکومت مان رہی ہے کہ آئندہ کچھ دنوں میں کورونا کے معاملے بڑھیں گے۔ ہم زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کریں گے تو نمبر بھی بڑھیں گے اور جن لوگوں کو علامت دکھائی دینے کے بعد آئسولیٹ کیا گیا ہے، ایسے لوگوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اگلا ایک ہفتہ بے حد اہم ہے۔ ہندوستان تیزی سے مشتبہ لوگوں کی جانچ کر رہا ہے۔ جن لوگوں میں بیماری کی علامت دیکھنے کو مل رہی ہے، ٹیسٹ کے لیے ان کا سیمپل لیا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن بے حد کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ اسی کو دیکھتے ہوئے ملک میں پہلے 21 دن کا لاک ڈاؤن کیا گیا اور پھر پی ایم مودی نے 19 دن کے لیے لاک ڈاؤن بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریبوں اور مزدوروں کے لیے زندگی محال ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت سے لگاتار دہاڑی مزدوروں اور مستحقین کی ضرورتیں پوری کرنے کی اپیل اپوزیشن پارٹی کے لیڈران کر رہے ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading