ہندوستان کو امریکہ کا غلام بنانے والی ٹریڈ ڈیل منسوخ کی جائے: نسیم خان

ہندوستان کو امریکہ کا غلام بنانے والی ٹریڈ ڈیل منسوخ کی جائے: نسیم خان

ممبئی یوتھ کانگریس کے ’نیائے ستیہ گرہ‘ میں سابق وزیر نسیم خان کی شرکت

ممبئی: ممبئی میں جاری یوتھ کانگریس کے ’نیائے ستیہ گرہ‘ احتجاج کے پانچویں دن کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر نسیم خان نے شرکت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس موقع پر انہوں نے امریکہ کے ساتھ کیے گئے ٹریڈ ڈیل کو فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ بھی اور کہا کہ اس معاہدے سے نہ صرف ملک کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچے گا بلکہ زرعی شعبہ اور کسان بھی شدید متاثر ہوں گے۔

نسیم خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے دباؤ میں آ کر ایسا معاہدہ کیا ہے جس سے ملک کی خودمختاری اور وقار متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس ٹریڈ ڈیل کے نتیجے میں کسانوں کی معیشت کمزور ہوگی اور ملک کا زرعی نظام خطرے میں پڑ جائے گا، اس لیے اسے فوراً ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے بی جے پی حکومت سیاسی فائدے کے لیے سماج میں مذہبی بنیادوں پر تقسیم پیدا کر رہی ہے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مذہبی مسائل کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری اور مہنگائی جیسے سنگین مسائل پر حکومت کے پاس کوئی مؤثر جواب نہیں ہے، جبکہ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع نہیں مل رہے اور کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔

نسیم خان نے الزام لگایا کہ حکومتی سطح پر مختلف اداروں میں امتیازی رویہ اپنایا جا رہا ہے اور ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں بھی غیر مساوی سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں تمام سیاسی پارٹیوں کو یکساں مواقع ملنے چاہئیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہونی چاہیے۔ انہوں نے انتخابی عمل پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں سے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر شکوک و شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم مشینوں کے حوالے سے بھی مختلف سیاسی پارٹیوں نے خدشات ظاہر کیے ہیں اور اگر کسی ٹیکنالوجی پر سوالات اٹھتے ہیں تو ان کا شفاف طریقے سے ازالہ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے متعلق کسی بھی شک کو دور کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، تاہم اس حوالے سے واضح جواب سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے بعد بھی کئی اعتراضات سامنے آئے، جس کے بعد اس معاملے کو عدالت میں لے جایا گیا اور ممبئی ہائی کورٹ نے ای وی ایم کی جانچ کے احکامات جاری کیے۔ انہوں نے بتایا کہ 16 اور 17 اپریل کو اس سلسلے میں ای وی ایم کی تکنیکی جانچ کی جائے گی۔

اس موقع پر ممبئی یوتھ کانگریس کی صدر زینت شبرین اور سینکڑوں عہدیداران و کارکنان موجود تھے۔ کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے زینت شبرین نے کہا کہ ملک کے مفاد میں کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنا مناسب نہیں ہے اور سابق وزرائے اعظم نے ہمیشہ قومی مفادات کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ قیادت بین الاقوامی دباؤ میں فیصلے کر رہی ہے، جو ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس احتجاجی تحریک کا آغاز ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ نے کیا تھا، جبکہ اس میں ہرش وردھن سپکال، امین پٹیل اور سچن ساونت سمیت دیگر لیڈران بھی شرکت کر چکے ہیں۔ یوتھ کانگریس کی جانب سے اس تحریک کو آئندہ بھی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

MPCC Urdu News 10 April 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading