ہندوستانی EVM ہو سکتی ہے ہیک، گوپی ناتھ منڈے کو پتہ تھا اسی لئے انھیں قتل کیا گیا: ای وی ایم ہیکر کا دعوی

ای وی ایم ایکسپرٹ سعید شجاع نے دعوی کیا کہ 2014 میں بی جے پی لیڈر گوپی ناتھ منڈے کو بھی اسی لیے قتل کر دیا گیا تھا کہ انہیں ای وی ایم ہیکنگ کے بارے میں پتہ تھا ان کا دعویٰ ہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں مہاراشٹر اور گجرات میں بڑے پیمانے پر ای وی ایم میں گڑبڑی کی گئی تھی.

2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اب صرف تین مہینے ہی بچے ہیں ۔ رپورٹ کی مانیں تو الیکشن کمیشن مارچ مہینے کی شروعات میں انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر سکتا ہے ۔ لوک سبھا انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتوں کی اٹھا پٹک کے بیچ ایک بار پھر ای وی ایم کی سکیورٹی کو لے کر بحث شروع ہوگئی ہے ۔دریں اثنا اتوار کو لندن میں کچھ ایکسپرٹ نے بھارت میں استعمال کی جانے والی ای وی ایم کو ہیک کرکے دکھایا جس کو براہ راست نشر بھی کیا گیا.

اتوار کے روز لندن میں ای وی ایم ہیکتھون کے نام سے ایک لائو ایونٹ منعقد کیا گیا جس میں ہندوستان سے کپل سبل نے بھی شرکت کی اسی پروگرام میں ای وی ایم ایکسپرٹ سعید شجاع نے دعوی کیا کہ 2014 میں بی جے پی لیڈر گوپی ناتھ منڈے کو بھی اسی لیے قتل کر دیا گیا تھا کہ انہیں ای وی ایم ہیکنگ کے بارے میں پتہ تھا ان کا دعویٰ ہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں مہاراشٹر اور گجرات میں بڑے پیمانے پر ای وی ایم میں گڑبڑی کی گئی تھی.

2014کے انتخابات میں EVMفریب سے جیتی تھی بی جے پی: ہندوستانی EVMمشین تیار کرنے والے ماہرکا سنسنی خیز دعویٰ گوپی ناتھ منڈے اور دیگر 14ماہرین کا قتل اسی وجہ سے ہوا تھا کہ وہ اس راز کو جانتے تھے۔لندن میں جاری ’ہیکاتھان‘میں ہندوستانی صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے منعقدہ پروگرام میں سید شجاع کو ویڈیو فون پر بلایا جس موقع پر ہال میں بہت سارے میڈیا گروپ کے نمائندے موجود تھے۔ شجاع کو وہاں پر سب کے سامنے دکھانا تھا کہ EVMsکو کس طرح ’’ہیک‘‘ کیا جاسکتا ہے لیکن انہیں ویڈیو کال پر بلایا گیا اس لئے کے چار روز قبل ہی ان پر حملے ہوچکا ہے۔ شجاع نے دعویٰ کیا کہ2014کے انتخابات کے موقع پر وہ اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے ہندوستان کے لئے EVMsکو تیار کیا تھا۔ شجاع نے دعویٰ کیا کہ انہیں جان کا خطرہ تھا اسی لئے وہ اس کے بعد ہندوستان سے فوراً نکل گئے اور امریکہ میں سیاسی بناہ حاصل کرلی۔

شجاع کی جانب سے جو پہلی سنسنی خیز خبر دی گئی وہ یہ تھی کہ بی جے پی کے سینئر رہنماء اور سابق مرکزی وزیر گوپی ناتھ منڈے جن کا ایک سڑک حادثہ میں انتقال ہوگیا تھا، اصل میں انکا قتل ہوا تھا کیونکہ وہ یہ جاتے تھے کہ 2014میں جیتنے کے لئے EVMsمیں فریب کیا گیا تھا۔ شجاع کے مطابق منڈے حکومت کا یہ راز افشاں کرنے والے تھے اور اسی لئے انکا حادثہ کے نام پر قتل کردیا گیا۔

انگریزی آن لان اخبار دی کوئنٹ کے مطابق شجاع نے الزام لگایا کہ انہیں اور انکی ٹیم کو ECILنے ہدایت دی تھی کہ وہ اس بات کا پتہ لگائیں کہ کیا EVMsکو ہیک کیا جاسکتا ہے اور اگر ہاں تو اس کا طریقہ کیا ہے۔ شجاع نے دوسرا دعویٰ یہ کیا کہ اپریل 2014میں انکی ٹیم کو حیدرآبار کے دیہی علاقوں میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا جہاں وہ ایک بی جے پی لیڈر EVMs سے متعلق ملنے گئے تھے۔شجاع اور انکی ٹیم نے بی جے پی لیڈران سے انہیں بلیک میل کرنے کی غرض سے میٹنگ کرنے کی کوشش کی تھی ،لیکن جب وہ بی جے پی لیڈر سے ملنے انکے گھر گئے تو انکا وہاں گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ شجاع کو بھی اس موقع پر گولی لگی تھی لیکن وہ بچ گئے۔

شجاع نے مزید یہ الزام لگایا کہ2015میں دہلی کے اسمبلی انتخابات کے موقع پر وہ جن لوگوں کے ساتھ ‘Save Indian Democracy’ کے عنوان سے کام کر رہے تھے، وہ لوگ اس موقع پر EVMsکو ہیک ہونے سے روکنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ جس کے نتیجہ میں عآپ کو 70میں سے 67نشستیں ملی تھیں۔ اگر یہ نہ ہوتا تو بی جے پی جیت جاتی تھی۔ حال ہی میں ہندی علاقوں میں بی جے پی کی ہار سے متعلق شجاع نے بتایا کہ اگر انکے لوگ چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں EVMsکی ہیکنگ روکنے میں کامیاب نہیں ہوتے تھے تو بی جے پی یقیناًجیت جاتی تھی۔

شجاع یہیں پر رکے نہیں بلکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انکی اس اسٹوری کو کسی بھی میڈیا گروپ نے دکھانے سے انکار کردیا تھا۔ شجاع کے مطابق صحافی گوری لنکیش نے انکی اس کہانی کو چلانے کے لئے ہاں کہا تھالیکن انہیں بھی قتل کردیا گیا۔دی کوئنٹ کے مطابق سب سے آخر میں شجاع نے کہا کہ ریلائنس کمیونیکشن ہی وہ کمپنی تھی جس نے بی جے پی کو EVMsہیک کرنے میں مدد کی۔ شجاع نے کہا کہ ہندوستان میں ایسے 9مقامات ہیں جہاں سے EVMsہیک ہوتی ہے۔ جو لوگ کرتے ہیں انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ وہ ہیک کر رہے ہیں۔
حالانکہ شجاع کے ان دعووں کو ثابت کرنے کے لئے کوئی بھی ثبوت نہیں ہے لیکن شجاع نے کہا کہ انہوں نے آن ریکارڈ جاکر امریکی حکام سے سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔ اس پروگرام میں الیکشن کمیشن اور بہت سی سیاسی پارٹیوں کو بلایا گیا تھا لیکن کانگریس لیڈر کپل سبل کے علاوہ کسی نے بھی شرکت نہیں کی۔ وہیں الیکشن کمیشن نے ان سارے دعووں سے انکار کیا۔

نیوز لانڈری کی رپورٹ

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading