نارنود سے بی جے پی امیدوار اور ریاستی وزیر مالیات کیپٹن ابھیمنیو کی شکست
ہریانہ سے بی جے پی کے لیے بری خبر سامنے آ رہی ہے۔ نارنود اسمبلی حلقہ سے پارٹی امیدوار اور ریاست میں وزیر مالیات کیپٹن ابھیمنیو ہار گئے ہیں۔ یہ شکست بی جے پی کے لیے زبردست جھٹکا ہے کیونکہ وہ بی جے پی کا ایک مضبوط چہرہ تھے۔
35-35 سیٹوں پر سبقت کے ساتھ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلہ
ہریانہ میں اسمبلی انتخابات کے نتائج کافی دلچسپ ہوتے جا رہے ہیں۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ہی اس وقت 35-35 سیٹوں پر سبقت بنا رکھی ہے۔ دیگر پارٹیوں کے امیدوار 20 سیٹوں پر آگے ہیں۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق جے جے پی اور کانگریس کے درمیان حکومت سازی کے لیے اتحاد ہو سکتا ہے۔
پہلا آفیشیل نتیجہ برآمد، کانگریس امیدوار ممن خان فیروز پور جھرکہ سے کامیاب
اسمبلی انتخاب کا پہلا آفیشیل نتیجہ برآمد ہو چکا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق کانگریس امیدوار ممن خان نے فیروز پور جھرکہ اسمبلی حلقہ سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے اپنے قریبی حریف بی جے پی کے نسیم احمد کو 35 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست فاش دیا۔ جہاں ممن خان کو 79259 ووٹ حاصل ہوئے وہیں نسیم احمد کو 43788 ووٹ ملے۔
امت شاہ نے گریٹر نوئیڈا کا دورہ کیا رد، کھٹر سے دہلی میں ملاقات کا امکان
میڈیا ذرائع کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہریانہ میں ’پینچ‘ پھنستا دیکھ اپنا گریٹر نوئیڈا کا دورہ رد کر دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ دوپہر 2 بجے دہلی واقع بی جے پی دفتر پہنچ سکتے ہیں۔ خبریں یہ بھی ہیں کہ انھوں نے منوہر لال کھٹر کو دہلی طلب کیا ہے تاکہ ان سے تازہ صورت حال کے بارے میں بات کی جا سکے۔
جے جے پی کارکنان جیند میں منا رہے جشن
رجحانات میں جے جے پی ’کنگ میکر‘ کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہی ہے جسے دیکھتے ہوئے پارٹی کارکنان نے جشن منانا شروع کر دیا ہے۔ جیند میں جے جے پی حامیوں کے ذریعہ پٹاخہ چھوڑا گیا اور چوٹالہ زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔
#Haryana: Jannayak Janata Party workers in Jind celebrate as party is leading on 11 assembly seats pic.twitter.com/XMQWPXkrKD
— ANI (@ANI) October 24, 2019
رجحانات میں بی جے پی اکثریت سے دور، حکومت سازی کے لیے کانگریس میں سرگرمی
ہریانہ میں بی جے پی کے لیے حکومت سازی مشکل نظر آ رہی ہے کیونکہ رجحانات میں وہ اکثریت سے دور ہے۔ دوسری طرف کانگریس بھی بی جے پی کے تقریباً برابر سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئی ہے اور میڈیا ذرائع کے مطابق حکومت سازی کے لیے اس نے جے جے پی لیڈروں سے رابطہ شروع کر دیا ہے۔ اس وقت 90 اسمبلی سیٹوں والی اس ریاست میں بی جے پی 35 جب کہ کانگریس 32 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئی ہے۔ جے جے پی 13 سیٹوں پر جب کہ دیگر 8 سیٹوں پر آگے ہیں۔
ہریانہ میں سبھی 90 سیٹوں کا رجحان برآمد، بی جے پی 38 اور کانگریس 32 سیٹوں پر آگے
ریاست کی سبھی 90 سیٹوں کے رجحان برآمد ہو گئے ہیں اور بی جے پی و کانگریس کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بی جے پی جہاں 38 سیٹوں پر آگے ہے وہیں 32 سیٹوں پر کانگریس نے سبقت بنائی ہوئی ہے۔ جے جے پی امیدوار 11 سیٹوں پر آگے ہیں جب کہ دیگر 8 سیٹوں پر آگے ہے۔
ہریانہ میں سبھی 90 سیٹوں کا رجحان برآمد، بی جے پی 40 اور کانگریس 31 سیٹوں پر آگے
ریاست کی سبھی 90 سیٹوں کا رجحان برآمد ہو گیا ہے اور بی جے پی و کانگریس کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بی جے پی جہاں 40 سیٹوں پر آگے ہے وہیں 31 سیٹوں پر کانگریس نے سبقت بنائی ہوئی ہے۔ جے جے پی امیدوار 12 سیٹوں پر آگے ہیں جب کہ دیگر 7 سیٹوں پر آگے ہے۔
ایک بار پھر کانگریس اور بی جے پی میں زبردست ٹکر
رجحانات میں لگاتار تبدیلی کے بعد کانگریس ایک بار پھر بی جے پی کو زبردست ٹکر دیتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ بی جے پی 38 سیٹوں پر سبقت کر رہی ہے جب کہ کانگریس 32 سیٹوں پر سبقت کر رہی ہے۔ جے جے پی ہریانہ میں 11 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئی ہے۔
رجحانات میں بی جے پی اکثریت سے 5 سیٹ دور
ہریانہ سے برآمد رجحانات میں بی جے پی اکثریت سے 5 سیٹ دور نظر آ رہی ہے۔ حالانکہ کئی سیٹوں پر کانگریس اس کو زبردست ٹکر دے رہی ہے اس لیے بی جے پی لیڈروں کے چہرے پر وہ خوشی دیکھنے کو نہیں مل رہی جو مہاراشٹر میں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ برآمد رجحانات میں بی جے پی 41 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئی ہے جب کہ کانگریس 24 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئی ہے۔ جے جے پی کے امیدواروں نے 10 سیٹوں پر سبقت بنائی ہے۔
60 سیٹوں کے برآمد رجحانات میں بی جے پی 32 اور کانگریس 20 سیٹوں پر آگے
رجحانات میں کانگریس سے آگے نکلی بی جے پی
بی جے پی نے رجحانات میں کانگریس پر کافی سبقت حاصل کر لی ہے۔ جن 52 سیٹوں کے رجحانات آئے ہیں ان میں کانگریس نے 15 سیٹوں پر جب کہ بی جے پی نے 29 سیٹوں پر سبقت حاصل کی ہوئی ہے۔ بقیہ سیٹوں پر دیگر پارٹیوں کے امیدوار آگے چل رہے ہیں۔
رجحانات میں کانگریس و بی جے پی کے 10-10 امیدواروں نے بنایئ سبقت
ہریانہ میں 22 سیٹوں کے رجحانات سامنے آ گئے ہیں اور کانگریس و بی جے پی دونوں کے ہی 10-10 امیدواروں نے سبقت بنائی ہے۔ دونوں کے درمیان زبردست ٹکر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایک سیٹ پر جے جے پی امیدوار نے سبقت بنائی ہے جب کہ ایک سیٹ پر کسی دوسرے پارٹی کے امیدوار نے سبقت بنائی ہے۔
شروعاتی رجحانات میں کانگریس و بی جے پی کے درمیان سخت ٹکر
ہریانہ سے موصول ہو رہے شروعاتی رجحانات میں کانگریس و بی جے پی کے درمیان سخت ٹکر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں کے ہی امیدوار 3-3 سیٹوں پر سبقت بنائے ہوئے ہیں جب کہ ایک سیٹ پر جے جے پی کے ایک امیدوار نے سبقت بنائی ہے۔
برآمد پہلے رجحان میں کانگریس کو برتری
ہریانہ سے پہلا رجحان سامنے آ گیا ہے اور کانگریس امیدوار کھرکھودا سیٹ پر بی جے پی سے آگے نظر آ رہا ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ یہ برتری برقرار رہتی ہے یا پھر بی جے پی امیدوار آگے نکلتا ہے۔
ووٹ شماری شروع، کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سخت مقابلے کی امید
ہریانہ میں ووٹوں کی گنتی شروع ہو گئی ہے اور کچھ ایگزٹ پول میں دکھایا گیا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سخت ٹکر ہو رہی ہے۔ کچھ ایگزٹ پول میں بی جے پی کو واضح اکثریت دکھائی گئی ہے اور اسے دیکھ کر بی جے پی کارکنان میں کافی خوشی کا ماحول ہے۔ چونکہ ووٹوں کی گنتی شروع ہو چکی ہے تو رجحان اب تھوڑی ہی دیر میں آنے شروع ہو جائیں گے۔
Counting of votes begins for Maharashtra & Haryana Assembly elections. pic.twitter.com/VMLrW1cE2q
— ANI (@ANI) October 24, 2019
کل 90 سیٹوں پر نتائج کا اعلان آج، ووٹ شماری صبح 8 بجے سے شروع
ہریانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان آج کیا جائے گا، جس کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ ہریانہ میں کس سیاسی جماعت کو حکومت سازی کا موقع ملے گا۔ ریاست کی 90 اسمبلی نشستوں پر ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے سے شروع ہو جائے گی۔
ہریانہ کے 90 اسمبلی حلقوں میں سے ہر ایک میں ایک کاؤنٹگ سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ گڑگاؤں کی بادشاہ پور ڈویژن میں ایک اضافی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ ریاست میں 21 اکتوبر کو پولنگ کا عمل اختتام پزیر ہوا تھا اور مجموعی طور پر 68 فیصد سے زیادہ ووٹنگ درج کی گئی۔
ہریانہ میں سال 2014 کو ہونے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے مکمل اکثریت حاصل کی تھی۔ 2014 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے 47، کانگریس نے 15، آئی این ایل ڈی نے 41 اور دیگران نے 20 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
