ہرش وردھن سپکال اور ادھو ٹھاکرے کی ملاقات، سیاسی صورتحال پر ت فصیلی تبادلۂ خیال

ہرش وردھن سپکال اور ادھو ٹھاکرے کی ملاقات، سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال

گاندھی جی کی قتل کی حمایت ہندوستانی ثقافت کے خلاف، جین سادھو کا بیان اہنسا کے اصول کے منافی

سنجے گائیکواڑ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ، پرکاش امبی کو سکیورٹی دینے کی اپیل

ممبئی: مہاراشٹر کی موجودہ سیاسی صورتحال کے درمیان اپوزیشن اتحاد مہاوکاس اگھاڑی کے اہم لیڈروں کے درمیان رابطوں میں تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے، اور اسی سلسلے میں کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے شیوسینا کے سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے سے ان کی رہائش ‘ماتو شری’ پر ملاقات کی۔ اس ملاقات میں ریاست کی بدلتی سیاسی صورتحال، اپوزیشن کی حکمت عملی اور آئندہ چیلنجز پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس کے بعد سپکال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متعدد اہم مسائل پر پارٹی کا مؤقف واضح کیا۔

ہرش وردھن سپکال نے اس موقع پر مہاتما گاندھی کے قتل سے متعلق نلیش چندر نامی جین منی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی گاندھی جی کی قتل کی حمایت کرتا ہے تو وہ ہندوستانی تہذیب اور اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جین دھرم کی بنیاد اہنسا پر ہے، اس لیے اس مذہب سے وابستہ کسی بھی فرد کی جانب سے ایسا بیان دینا اس کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گاندھی قتل کیس کے تمام حقائق، عدالتی فیصلے اور کپور کمیشن کی رپورٹ عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اس کے باوجود ایسے بیانات دینا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ موجودہ سیاسی حالات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور مہاوکاس اگھاڑی کے تینوں اتحادی پارٹیوں کے درمیان بہتر تال میل برقرار رکھنے پر زور دیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ملاقات میں قانون ساز کونسل کے انتخابات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، مگر کانگریس کا مؤقف پہلے ہی واضح ہے کہ راجیہ سبھا کا انتخاب کانگریس کو لڑنا چاہیے اور ادھو ٹھاکرے مہاوکاس اگھاڑی کا اہم چہرہ ہونے کے ناطے قانون ساز کونسل کے لیے موزوں امیدوار ہو سکتے ہیں۔

ہرش وردھن سپکال نے ورلی میں بی جے پی کے احتجاجی مارچ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مظاہرے کے باعث علاقے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہوا، لیکن کارروائی صرف منتظمین تک محدود رکھی گئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس مارچ میں شریک وزراء کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور مطالبہ کیا کہ قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک خاتون کی ناراضگی کا ویڈیو کانگریس کے سوشل میڈیا پر شیئر ہونے کے بعد بی جے پی کی جانب سے صحافیوں کو دھمکانے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس کی مذمت کی جانی چاہیے۔ انہوں نے شیوسینا کے رکن اسمبلی سنجے گائیکواڑ کی جانب سے ایک کتاب ’شیواجی کون تھا؟‘ کے ناشر پرکاش امبی کو دی گئی مبینہ دھمکی کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’پانسارے جیسا حال کریں گے‘‘ جیسے الفاظ براہ راست جان سے مارنے کی دھمکی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پرکاش امبی کو فوری طور پر سکیورٹی فراہم کی جائے اور اس معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے۔

ہرش وردھن سپکال نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرتے ہوئے سنجے گائیکواڑ کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ کھلے عام غنڈہ گردی اور دھمکی آمیز رویہ جمہوری نظام کے لیے خطرناک ہے اور ایسے عناصر کے خلاف سخت قدم اٹھانا ضروری ہے تاکہ قانون کی بالادستی برقرار رہ سکے۔

MPCC Urdu News 23 April 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading