محسن رضا ضیائی،پونہ۔9921934812
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺکوتمام عالمین کے لیے رحمت بناکر بھیجا ۔آ پ کے ورودِ مسعود سے اس جہان میں سرسبزشادابیاں اور حسن بہاراں آئیں۔ظلماتِ کفر کافور ہوگیے،ایمان واسلام کی گونجیںصحراے عرب سے نکل کرفضاؤں میں تحلیل ہوتے ہوئے وادیِ عجم کے چہارہاجانب پھیل گئیں ۔یقیناً یہ سب آپ کی خدمتِ شاقہ اور مؤثردعوت وتبلیغ ہی کا نتیجہ تھا ۔آپ نبی ورسول ،داعی ومبلغ ،پیکر صدق واخلاق،منبع جودوسخااوربے شمار صفات عالیہ سے متصف تھے۔ آپ ﷺکی مکی ومدنی زندگی کے کئی ایک مختلف پہلواور زاویے ہیں جن کوسیرت نگاروں نے الگ الگ باب اور حصوں میں تقسیم کیا ہے۔آپ کی مبارک زندگی کا ایک ایسا روشن باب جس کو تاریخ میں ایک نمایاں مقام وحیثیت حاصل ہے وہ ’’ہجرتِ مدینہ‘‘ہے ۔اگراولاً لفظِ ہجرت پر قدرے روشنی ڈالی جائے تو اس کے مفاہیم ومعانی کے ساتھ ساتھ اس سے جڑے کئی واقعات واحوال بھی سامنے آجاتے ہیں۔یہاں پر ہجرت کے متعلق کچھ معلومات کو ضبطِ تحریر میں لایا جارہاہے۔
واضح ہوکہ ہجرت یہ عربی زبان کا لفظ ہے جو ہجر سے ماخوذ ہے ،جس کے معانی جدائی،مفارقت، رخصت ہونے ،وطن کو ہمیشہ کے لیے چھوڑدینا اورجدا ہونے کے ہیں۔اور اردوزبان کی مشہورومعروف لغت’ ’فیروز اللغات ‘‘ میں ہے :وطن کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنا۔
ان معانی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بے شمار انبیاے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام ہیں جنہوں نے اپنے عزیزملک اور مادروطن کو خیرباد کہہ کر دعوت وتبلیغ کی غرض سے یا پھر کفارومشرکین کی ریشہ دوانیوں اور ایذارسانیوںسے عاجز آکر کسی دوسرے ملک یا پھر کسی علاقے میں تشریف لے گیے جو تاریخ میں ہجرت کہلائی۔جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نمرودکے ظلم وجور سے تنگ آکربابل سے ہجرت فرماکر ملکِ شام تشریف لائے اور وہی پہ دینِ حنیف کی دعوت واشاعت میں سرگرمِ عمل رہیں۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کی فرعونیت وبربریت سے عاجز آکر مدین ہجرت فرماگیے جہاں آپ اعلاء کلمۃ الحق کے لیے کمربستہ رہیں اور لوگوں کو جادۂ راہ پر گامزن کرتے رہیں۔
اسی طرح تاریخ میں بے شمار انبیاے سابقین کے احوال مذکور ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ان کے سامنے ایسے نازک حالات پیش آئے یا پھر دعوت وتبلیغ کا معاملہ رہا تو وہ اپنے وطن عزیز کو چھوڑکر ہجرت کرگیے۔
انبیاے سابقین کی طرح تاریخ میںرسولﷺ کی ہجرت کا واقعہ بھی کئی وجوہ سے اہمیت رکھتا ہے ۔رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کا واقعہ بھی دیگر انبیاے سابقین ہی کی طرح ہے ۔آپ کو بھی آپ کے وطن عزیز مکہ شریف میں بہت ستایا گیا ،آپ کے نرم ونازک بدن پر زخم دئے گیے ،آپ کے جسمِ نازنین کو پتھروں اور اوزاروں سے لہولہان کیا گیا ،آپ کو اسلام کی دعوت وتبلیغ سے روکنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا گیا ،ہر طرح کے حربے استعمال کیے گئے ،آپ کو قیدوبند کی صعوبتوں سے سے بھی دوچار ہونا پڑا ۔آپ خود فرماتے ہیں کہ: ’’مجھ سے پہلے جتنے انبیاے کرام علیہم الصلاۃ والسلام گزرے ہیں انہوں نے راہِ خدا میں جتنی تکلفیں اور مصیبتیں برداشت نہیں کی ہیں اس سے کئی زیادہ میں نے تنہا برداشت کیا ہے۔‘‘(بخاری)گویا حضور نبی کریمﷺکو ہر موڑ اور ہرمحاذ پر ستایا اورتکلیف دیا گیا جس پر آپ صبروتحمل کا کامل مظاہرہ فرماتے رہے اور کفارومشرکین آپ کوہرقسم کی تکلیف دیتے رہے ۔لیکن جب کفارِ مکہ آپ کو دعوتِ اسلام سے روکنے میں حددرجہ ناکام ثابت ہوئے اورایمان واسلام کا دائرہ ٔ کارکافی وسیع ہونے لگا تو سردارانِ مکہ نے آپ کے خلاف قتل کی سازش رچنے کے لیے ایک اجلاس رکھا جس میں آپ کے قتل کی ایک گھنونی سازش رچی گئی ۔اب تو ظلم حداعتدال سے تجاوزکرچکاتھا۔لہذا رب تبارک وتعالیٰ کی جانب سے حضرت جبرئیل امین اِذنِ ہجرت لے کر حاضر ِ بارگاہ ہوئے اوراسی طرح آپ نے مدینہ شریف ہجرت کا عزمِ مصصم فرمالیاچناں چہ اس پورے واقعے کو حضرت امام بخاری نے تفصیل کے ساتھ اپنی صحیح حدیث میں پیش کیا ہے:جب کفار حضورا کے قتل پر اتفاق کر کے کانفرنس ختم کر چکے اور اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گیے تو حضرت جبریل امین علیہ السلام رب العالمین کا حکم لے کر نازل ہو گیے کہ اے محبوب ! آج رات کو آپ اپنے بستر پر نہ سوئیں اور ہجرت کرکے مدینہ تشریف لے جائیں۔ چناں چہ عین دوپہر کے وقت حضور ا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر تشریف لے گیے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ سب گھر والوں کو ہٹا دو کچھ مشورہ کرنا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہا !آپ پر میرے ماں باپ قربان یہاں آپ کی اہلیہ (حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کے سوا اور کوئی نہیں ہے (اْس وقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضور ا کی شادی ہو چکی تھی) حضورﷺنے فرمایا کہ اے ابوبکر !اللہ تعالیٰ نے مجھے ہجرت کی اجازت فرما دی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ ا پر قربان ! مجھے بھی ہمراہی کا شرف عطا فرمائیے۔ آپ ا نے ان کی درخواست منظور فرما لی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چار مہینے سے دو اونٹنیاں ببول کی پتی کھلا کھلا کر تیار کی تھیں کہ ہجرت کے وقت یہ سواری کے کام آئے گی۔ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ا !ان میں سے ایک اونٹنی آپ قبول فرما لیں۔ آپﷺنے ارشاد فرمایا کہ قبول ہے مگر میں اس کی قیمت دوں گا۔ حضرت ابوبکر صدیق صنے بادل ناخواستہ فرمان رسالت سے مجبور ہو کر اس کو قبول کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تو اس وقت بہت کم عمر تھیں لیکن ان کی بڑی بہن حضرت بی بی اسما رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سامانِ سفر درست کیا اور توشہ دان میں کھانا رکھ کر اپنی کمر کے پٹکے کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کیے۔ ایک سے توشہ دان کو باندھا اور دوسرے سے مشک کا منہ باندھا۔ یہ وہ قابل فخر شرف ہے جس کی بنا پر ان کو ‘‘ذات النطاقین’’ (دو پٹکے والی) کے معزز لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔اس کے بعد حضور ا نے ایک کافر کو جس کا نام ‘‘عبداللہ بن اْرَیقَط’’ تھا جو راستوں کا ماہر تھا راہ نمائی کے لیے اْجرت پر نوکر رکھا اور ان دونوں اونٹنیوں کو اس کے سپرد کر کے فرمایا کہ تین راتوں کے بعد وہ ان دونوں اونٹنیوں کو لے کر ‘‘غارثور’’ کے پاس آ جائے۔ یہ سارا انتظام کر لینے کے بعد حضورا اپنے مکان پر تشریف لائے۔
(بخاری ،ج۱، ص۵۵۳-۵۵۴باب ہجرت النبی ﷺ)
حضور نبی کریم ﷺ نے مکہ معظمہ سے مدینہ شریف کی جانب ہجرت کا ارادہ کیا تو پہلی تین راتیں حضرت ابوبکر صدیق کے ہمراہ اسی غار میں بسر کیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اسی نسبت سے ’’یارغار‘‘ کہلائے
اسی طرح حضور ﷺ مکہ سے مدینہ شریف ہجرت کرگیے ،جہاں آپ کی آمد کو لے کر اہلِ مدینہ کافی پرجوش اور مضطرب وبیقرار تھے ،عورتوں اور بچوں کا یہ حال تھا کہ وہ مکانوں اور چھتوں پر چڑھ کر آپ کی آمد کے قصیدے اس طرح پڑتے تھے۔ ؎
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا
مِنْ ثنِیّاتِ الوَداَع
وَجَبَتْ شُکْرُعَلَیْنَا
ماَدَعیٰ لِلٰہِ دَا ع
ترجمہ: ہم پر چاندطلوع ہوگیاوداع کی گھاٹیوں سے ،ہم پر خدا کا شکرواجب ہے ،جب تک اللہ سے دعا مانگنے والے دعا مانگتے رہیں۔
مؤرخین لکھتے ہیں کہ: رسول اللہا کا مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کرنا یہ اسلام کے فروغ واستحکام کا ایک عظیم سبب بنا۔کئی تاریخی واقعات ہجرت مدینہ سے وابستہ ہیں ۔تاریخ میں ہجرت مدینہ فروغ اسلام کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔اسلام کے بے شمار دینی،علمی،سیاسی،معاشی اور سماجی معاملات واحوال اس واقعہ سے مربوط ہیں۔سب سے اہم یہ کہ مکہ کی فتح یابی بھی ہجرت کے بعد ہی ہوئی جس کے بعد پوری دنیا بالخصوص پورے عرب میں اسلام کا غلبہ وتسلط قائم ہوگیا ۔فتح مکہ کا واقعہ تاریخ میں ایک خاص حیثیت رکھتا ہے ۔ان کے علاوہ ہجرت سے جڑے ان گنت واقعات وقصص ہیں جو نبی کریم ا کی حیات مبارکہ کاایک روشن اورمفصل باب ہے ۔اسی لیے ہجرت کرنا انبیاے کرام کی اور بالخصوص حضور نبی کریم ا کی سنت مبارکہ ہے جس میں بے پناہ برکتیں ہیں ۔لہذا جب بھی دعوت وتبلیغ کا موقع میسر آجائے تو پس وپیش نہیں کرناچاہیے یا پھر کہیں پر بکثرت تنازعات واختلافات ہوں تو بتقاضۂ مصلحت وہاں سے ہجرت کرلینا چاہیے ۔ہجرت کے معاملے میںنبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل اورآپ کے طریقۂ کار کو اختیار کرنا ضروری ہے ۔
اللہ پاک ہمیں اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر چلنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین
(مضمون نگار‘ ماہ نامہ انوارِ ہاشمی کے چیف ایڈیٹر ہیں)