جی ہاں راہل بجاج، معروف صنعت کار ، مشہور تاجر، کامیاب بزنس مین، راجیہ سبھا کا سابق ممبر، سینکڑوں ملکی وغیر ملکی ایوارڈ حاصل کرنے والا،انٹرنیشنل بزنس کونسل جینوا کے اکنامک فورم کا سابق چیئرمین، ہارورڈ بزنس اسکول کے ایڈوائزری بورڈ کا رکن، واشنگٹن ڈی سی کےبروکنگس انسٹی ٹیوشن کی بین الاقوامی مشاورتی کونسل کا رکن، اور انڈین اسکول آف بزنس کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اہم ممبر،بجاج گروپ کا چیئرمین ہوں ،جی بجاج گروپ وہی گروپ ہے جو دوپہیہ گاڑی، موٹرواہن، الیکٹرانکس سامان، اور دیگر آلات ومصنوعات کےلیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔
میری کمپنی ہندوستان کی سب سے بڑی دو پہیہ گاڑی بنانے والی کمپنی ہے۔ میری کمپنی کی شاخیں ملک بھر میں پھیلی ہوئی ہیں جو اپنی عمدہ ، بہتر اور دیرپا مصنوعات کے سبب مقبول عام ہیں۔ ہندوستان کا بچہ بچہ ’بجاج‘ نام سے واقف ہے۔ ہاں میں پدم بھوشن ایوارڈ یافتہ، امیروکبیر انسان، مجاہد آزادی کا پوتا، بے باک انسان ، حکومت کو اس کی ناکامی پر گھیرنے والا، راہل بجاج ہوں۔
میری پیدائش ۱۰؍جون ۱۹۳۸ کو برٹش دور حکومت میں بنگال پریسڈینسی میں ہوئی۔ میں مارواڑی خاندان سے تعلق رکھتا ہوں جس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ تجارت ان کی گھٹیوں میں ہے۔ میرے والد کا نام کمل نین بجاج، والدہ کا نام ساوتری بجاج اور دادا جو کہ بجاج گروپ کے بانی اور مجاہد آزادی ہیں ان کا نام جمنالال بجاج تھا۔ بھائی کا نام ششر بجاج ہے، میرے دو بیٹے راجیو بجاج، اور سنجیو بجاج ہیں اور بیٹی کا نام سنینا کیجری وال ہے۔ میری ابتدائی تعلیم ممبئی کے کیتھل اینڈ جان کینن گرجا گھر اسکول میں ہوئی، اس کے بعد دہلی یونیورسٹی کے اسٹیفنس کالج سے اکنامک کی ڈگری حاصل کی پھر ممبئی یونیورسٹی سے قانون کی پڑھائی مکمل کی اور یو ایس اے کے ہارڈورڈ بزنس اسکول سے ایم بی اے کی تعلیم حاصل کی۔ میں نے ۱۹۶۵ میں بجاج گروپ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی، کمپنی کو ترقی کے مدار تک پہنچایا، ۱۹۸۰ کی دہائی میں بجاج دو پہیئوں والی اسکوٹر بنانے والی اہم کمپنی تھی، بجاج گروپ کے چیتک برانڈ کی گاڑیوں کا مطالبہ اس قدر تھا کہ لوگوں کو اپنی گاڑی بکنگ کرنے کے بعد دس دس سال تک انتظار کرنا پڑتا تھا۔ میری کمپنی کا مشہور سلوگن ’ہمارا بجاج‘ آج بھی لوگوں کے ذہن ودماغ میں زندہ ہے۔ ہاں میں میں دنیا کے مالدار ترین لوگوں میں شامل ہوں۔ میری کمپنی کا شمار دنیا کی اہم ترین کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ میری کمپنی اور میرے خاندان کا ملک کی تعمیر وترقی میں بھی اہم رول ہے۔ میں بچپن سے ہی بزنس کی طرف مائل تھا اس کی وجہ خاندانی پس منظر تھا ۔
ہاں میں وہی راہل بجاج ہوں جس نے حال ہی میں ممبئی میں دی اکنامک ٹائمس کے ایوارڈ فنکشن میں ملک کے وزیر داخلہ ، وزیر خزانہ اور وزیر ریلوے کے سامنے ببانگ دہل ڈنکے کی چوٹ پر ان کی ناکامیوں پر طنز کیا، اقلیتوں کے ساتھ ہورہی ناانصافی پر سوال کھڑا کیا، سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے بیانوں پربی جے پی کی پالیسیوں پر نقد کیا اور کشمیر میں جاری ہڑتال اورانسانی حقوق کی خلاف ورزی پر گھیرا۔ میں نے اس پروگرام میں ان لفظوں میں کہا کہ ’’کوئی بولے گا نہیں،کوئی بولے گا نہیں، انڈسٹریلسٹ فرینڈ، میں یہ بات کھلے عام کہوں گا، ایک ماحول پیدا کرنا ہوگا، یوپی اے ۲ میں تو ہم کسی کو بھی گالی دے سکتے تھے، آپ اچھا کام کررہے ہیں، اس کے بعد بھی ہم آپ کو کھلے عام تنقید کریں، ہمیں یقین نہیں ہے کہ آپ اس کو برداشت کرلیں گے‘‘ ۔
میرے اس بیان کی جہاں ستائش کی گئی وہیں بھونچال بھی آگیا، میں نے مودی شاہ جوڑی کو لتاڑ کیادیا بھکتوں نے مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے ٹرول کرنا شروع کردیا ،حکومتی عہدیداروں نے تنقید کو گناہ سے تعبیر کرکے کہا کہ مودی حکومت پر تنقید کرنا گناہ ہے میں اس سے باز آجائوں، میرے سوال کیے جانے کو قومی مفاد کے خلاف بتایاگیا، مجھ پر لعنتیں برسائیں گئیں ، میرے سوالوں کا اوچھے اور بھونڈے طریقے سے جواب دیاگیا؛ لیکن میں ڈرا نہیں ، سہما نہیں بے خوفی سے حکومتی افراد سے پوچھتا رہا اور پوچھوں گا کیونکہ یہاں جمہوریت ہے اگر سوال کرنا بند کردیاجائے تو لوگ ہٹلر مزاج ہوجائیں گے جمہوری تانے بانے میں رہتے ہوئے سیکولر اقدار کے تحفظ کےلیے ہمیں حکومت کی ناکامی پر سوال کرنے کی ہمت جٹانی ہوگی۔ اس حکومت میں جس طرح سے ڈر اور خوف کا ماحول پیدا کیاگیا ہے اسے اجاگر کرنا ہوگا اگر بروقت اس پر قابو نہیں پایاگیا تو ملک فرقہ پرستی کی بھینٹ چڑھ جائے گا۔ اس لیے ملک کی حفاظت کےلیے آئین ودستور کے تحفظ کےلیے حکومتوں سے سوال لازمی ہے۔ میں نے اس پروگرام میں کارپوریٹ گھرانوں میں حکومتی عہدیداروں کے تئیں سوال نہ کرنے پر بھی پھٹکار لگائی اور میں نے سوال پوچھ کر بتا دیاکہ میں سیکولر مزاج کا حامل شخص ہوں میرے دادا نے آزادی ہند میں رول ادا کیا ہے اور میں اسی خون کا پروردہ ہوں جہاں بے باکی اور آزادی گھٹی میں سمائی ہوئی ہے میں حکومت کی ناکامی پر آئندہ بھی سوال کروں گا اور اقلیتوں کے ساتھ ہورہے دوہرے معیار پر حکومت کو گھیرتا رہوں گا۔
میں دیگر کارپوریٹ گھرانوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمت دکھائیں، بزدل نہ بنیں آج ملک نفرت کی بھینٹ چڑھ رہا ہے، گنگا جمنی تہذیب کو خطرہ ہے ملک کی ترقی کی رفتار کم ہوگئی ہے۔ ملک میں گنگا جمنی تہذیب کی بحالی کےلیے، سیکولر اقدار کے تحفظ کےلیے آگے آئیں، حکومتوں کی ناکامی پر سوال کھڑے کریں اور ان سے پوچھیں کہ ملک کی جی ڈی پی کیوں گری، اقلیتوں کا جینا کیوں دوبھر ہوا؟ دلتوں کے ساتھ تعصب اب بھی کیوں روا ہے، کشمیریوں کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کیوں کی جارہی ہے، گوڈسے دہشت گرد کی حامی کو پارٹی میں کیوں رکھا گیاہے، کسانوں کی خودکشیاں کیوں نہیں رک رہیں، بےروزگاروں کو اب تک کیوں نہیں روزگار ملا، خواتین کا تحفظ کیوں نہیں ہورہا کیوں آئے دن خواتین استحصال کا شکار ہورہی ہیں ان سب پر روک لگائی جائے ملک جیسا تھا ویسے رہنے دیا جائے۔ نفرت کے بجائے محبت کو عام کرنے پر زور دیں تبھی ہم خوشحال رہ سکتے ہیں۔