گیس بحران کے پیشِ نظر نئے قواعد، یکم جون سے ایل پی جی کنکشن منسوخ ہونے کا امکان,ایک خاندان، ایک کنکشن کا اصول

ایشیا میں گیس بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے صارفین کو کسی قسم کی دشواری سے بچانے کے لیے چند اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ ان میں سے ایک اہم تبدیلی یکم جون سے نافذ ہونے جا رہی ہے، جس کے تحت بعض صارفین کا ایل پی جی (LPG) کنکشن منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

درحقیقت ملک میں پی این جی (PNG) کنکشن کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، لیکن حکومتی ہدایات کے باوجود ایل پی جی سلنڈروں کا استعمال کم نہیں ہو رہا۔ مارچ تک تقریباً 6.5 لاکھ نئے پی این جی کنکشن دیے گئے، تاہم ایل پی جی کی سپلائی میں صرف 18 فیصد کمی آئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی خاندانوں نے پی این جی کنکشن تو حاصل کر لیا، لیکن ایل پی جی کنکشن واپس نہیں کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کسی گھر میں پی این جی اور ایل پی جی دونوں کنکشن موجود ہیں تو ایل پی جی کنکشن سرنڈر کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے باوجود متعدد صارفین پی این جی حاصل کرنے کے بعد بھی ایل پی جی استعمال کر رہے ہیں۔

گزشتہ ایک دہائی میں ایل پی جی صارفین کی تعداد تقریباً دوگنی ہو کر 33.5 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ پی این جی صارفین کی تعداد صرف 1.64 کروڑ ہے۔ حکومت اس صورتحال میں جلد از جلد تبدیلی لانا چاہتی ہے، اسی لیے جون کے آغاز سے پہلے سخت ضوابط نافذ کیے جا رہے ہیں۔

ایک خاندان، ایک کنکشن کا اصول

نظرِ ثانی شدہ ضوابط کے مطابق جن خاندانوں کے پاس پہلے سے پی این جی کنکشن موجود ہے، انہیں اپنا ایل پی جی کنکشن سرنڈر کرنا پڑ سکتا ہے۔ تیل تقسیم کرنے والی کمپنیوں (OMCs) نے گھریلو سلنڈروں کے غلط استعمال، ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کی روک تھام کے لیے ایسے گھروں کی شناخت شروع کر دی ہے جہاں پی این جی اور ایل پی جی دونوں کا استعمال ہو رہا ہے۔

نئے قواعد کے تحت ایک ہی پتے پر دونوں کنکشن رکھنا ممنوع تصور کیا جا رہا ہے۔ جن علاقوں میں پی این جی کا بنیادی ڈھانچہ موجود ہے، وہاں مقررہ مدت کے اندر پی این جی پر مکمل طور پر منتقل نہ ہونے والے صارفین کی ایل پی جی سپلائی بند یا کنکشن خودکار طور پر منسوخ کیا جا سکتا ہے۔

ایل پی جی کنکشن کی منتقلی

پی این جی کنکشن حاصل کرنے کے 30 دن کے اندر صارفین کو اپنا ایل پی جی کنکشن بند کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ تاہم حکومت نے ایسے صارفین کو بعد میں اپنا ایل پی جی کنکشن دوبارہ فعال کرانے کی سہولت بھی دی ہے، خاص طور پر اگر وہ کسی ایسے علاقے میں منتقل ہو جائیں جہاں پی این جی دستیاب نہ ہو۔

جون سے ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ متاثر

اس ماہ سے پی این جی پائپ لائن والے علاقوں میں رہنے والے گھروں کو گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ یا ریفل حاصل کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں اور او ایم سیز نے اپنے ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کو یکجا کر دیا ہے، جس کے ذریعے دونوں کنکشن رکھنے والے صارفین کی نشاندہی کی جا سکے گی۔حکومت نے پی این جی کنکشن کی توسیع کے لیے 30 جون تک کی مہلت بھی دی ہے۔

گیس سلنڈر بکنگ کے لیے نئی مدت

سپلائی کی کمی اور غلط استعمال پر قابو پانے کے لیے شہری علاقوں میں ایل پی جی ریفل بکنگ کے درمیان لازمی وقفہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن کر دیا گیا ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ مدت 45 دن مقرر کی گئی ہے۔

سبسڈی اور نئے کنکشن کے قواعد

خاندانوں کو ہر سال پہلے کی طرح صرف 12 رعایتی گھریلو سلنڈر ہی ملیں گے۔ اس سے زائد سلنڈر مارکیٹ قیمت پر دستیاب ہوں گے۔

نیا ایل پی جی کنکشن حاصل کرنے پر اب نظرِ ثانی شدہ سیکیورٹی ڈپازٹ اور سیٹ اپ فیس لاگو ہوگی، جس میں ریگولیٹر، پائپ اور تنصیب کے اخراجات بھی شامل ہوں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading