ملک میں جعلی نوٹوں کے معاملات میں اضافہ، 500 روپے کے جعلی نوٹ سب سے بڑا خطرہ

نئی دہلی: ملک میں جعلی کرنسی کے معاملات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تاہم 2000 روپے کے جعلی نوٹوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ Reserve Bank of India (آر بی آئی) کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق اس وقت بازار میں سب سے زیادہ 500 روپے کے جعلی نوٹ گردش کر رہے ہیں، جس کے باعث شہریوں اور تاجروں کو نقد لین دین کے دوران خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

آر بی آئی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران بینکوں نے مجموعی طور پر 2 لاکھ 29 ہزار 746 جعلی نوٹوں کی نشاندہی کی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 5.7 فیصد زیادہ ہیں۔ سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال 500 روپے کے نوٹوں کی ہے، جن کی جعلی نقول کی تعداد میں 20.5 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 41 ہزار 907 تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق جعلی نوٹوں کے مجموعی معاملات میں 500 روپے کے نوٹوں کا حصہ سب سے زیادہ ہو گیا ہے، جبکہ 2000 روپے کے جعلی نوٹوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق 500 روپے کا نوٹ ملک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی کرنسی ہے، اسی وجہ سے جعل سازوں نے اسے اپنا اہم ہدف بنا لیا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں پکڑے گئے جعلی نوٹوں میں 61.8 فیصد حصہ صرف 500 روپے کے جعلی نوٹوں کا رہا۔ یہ شرح مالی سال 2024-25 میں 54.2 فیصد اور مالی سال 2023-24 میں 38.5 فیصد تھی۔

اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ جعل ساز اب زیادہ مالیت اور زیادہ استعمال ہونے والی کرنسی پر اپنی توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ آر بی آئی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نقد رقم وصول کرتے وقت نوٹوں کی اصلیت کی جانچ ضرور کریں اور مشتبہ نوٹ ملنے کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ بینک یا پولیس کو اطلاع دیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading