ناندیڑ میں سائبر فراڈ کے "میول بینک اکاؤنٹ” ریکیٹ کا پردہ فاش، دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز) ضلع میں بڑھتے ہوئے سائبر مالیاتی جرائم پر قابو پانے کے لیے پولیس سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نیلابھ روہن کی ہدایت پر مقامی کرائم برانچ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے سائبر فراڈ میں استعمال ہونے والے "میول بینک اکاؤنٹ” ریکیٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس سلسلے میں دو ملزمان کے خلاف ناندیڑ سائبر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے گوالی پورہ روڈ پر چند افراد عام اور کم تعلیم یافتہ شہریوں کو رقم کا لالچ دے کر ان کے نام پر مختلف بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوا رہے ہیں اور ان اکاؤنٹس، اے ٹی ایم کارڈز اور کریڈٹ کارڈز کو آن لائن سائبر فراڈ میں استعمال کر رہے ہیں۔

اطلاع کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا، جس کی شناخت ہرشد سنگھ راجو سنگھ اروڑا، ساکن برہان پور (مدھیہ پردیش) کے طور پر ہوئی۔ اس کی تلاشی کے دوران مختلف بینکوں کی 60 پاس بکس، اے ٹی ایم کارڈز اور مختلف کمپنیوں کے آٹھ سم کارڈ برآمد ہوئے۔ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ دوسرا ملزم بالاجی سوپان گنجالے، ساکن بلی رام پور (تحصیل ناندیڑ دیہی)، لوگوں کو اکاؤنٹ ہولڈر بنا کر ان کے بینک اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈ پہلے ملزم کے حوالے کرتا تھا۔

دونوں ملزمان نے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر مالی فائدے کے لیے مختلف شہریوں کے نام پر بینک اکاؤنٹس حاصل کیے۔سائبر پولیس نے این سی سی آر پی (NCCRP) پورٹل اور منی ٹریل کے تجزیے کے ذریعے مشتبہ لین دین کا سراغ لگایا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ان اکاؤنٹس کو ملک بھر میں آن لائن سرمایہ کاری، "ڈیجیٹل اریسٹ”، شیئر مارکیٹ اور دیگر جھوٹے لالچ دے کر کی جانے والی سائبر دھوکہ دہی کی رقم وصول کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔پولیس نے تقریباً 19 لاکھ 41 ہزار روپے کے مشتبہ مالی لین دین کا سراغ لگایا ہے، جبکہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان ہر بینک اکاؤنٹ کے بدلے کمیشن وصول کرتے تھے۔اس معاملے میں پولیس کانسٹیبل برہمانند لامتورے کی شکایت پر ناندیڑ سائبر پولیس اسٹیشن میں جرم نمبر 08/2026 درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کی دفعات 318(4) اور 3(5) کے علاوہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعات 66(C) اور 66(D) کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مزید تفتیش پولیس انسپکٹر وسنت سپرے کر رہے ہیں۔پولیس کے مطابق سائبر جرائم میں دھوکہ دہی کی رقم کا سراغ چھپانے کے لیے بعض افراد اپنے یا دوسروں کے نام پر بینک اکاؤنٹس فراہم کرتے ہیں، جنہیں "میول اکاؤنٹس” کہا جاتا ہے۔ ایسے اکاؤنٹس فراہم کرنا خود ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ناندیڑ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو لالچ یا معاوضے کے بدلے اپنا بینک اکاؤنٹ، اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، موبائل سم یا انٹرنیٹ بینکنگ کی سہولت استعمال کرنے کے لیے ہرگز نہ دیں۔ اگر کسی کے ساتھ سائبر فراڈ پیش آئے تو فوراً ہیلپ لائن نمبر 1930 پر رابطہ کریں یا
www.cybercrime.gov.in
پر اپنی شکایت درج کرائیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading