
بچوں کی حوصلہ افزائی
بچوں کے سیکھنے کا عمل نومولود عمر میں ہی شروع ہو جاتا ہے۔ بچے کی ذات تب ہی بننا شروع ہو جاتی ہے جب وہ خود کو اپنے والدین کی نظر سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔ آپ کے بات کرنے کا انداز، آپ کے چلنے پھرنے کا طریقہ، آپ کے کن باتوں پہ کیا تاثرات ہوتے ہیں یہ سب آپ کا بچہ محسوس کر سکتا ہے۔ آپ کے الفاظ اور اعمال انکی شخصیت پہ سب سے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔
بچوں کو چھوٹی چھوٹی باتوں پہ سراہانا چاہیے، انکو انکے کام آزادانہ طریقے سے کرنے دینے چاہیے تا کہ ان میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ بچوں کا آپس میں موازنہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اسطرح ان میں احساسِ کمتری پیدا ہوتی ہے۔ بچوں سے غصہ میں بات نہیں کرنی چاہیے بلکہ غصے والے الفاظ کو نرم الفاظ سے بدل دینا چاہیے۔
بچوں کے ساتھ شفقت سے پیش آنا
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ ایک دن میں کتنی دفعہ اپنے بچوں کی ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں؟ اگر آپ سوچیں تو آپ کو پتۃ چلے کہ آپ انکو سراہنے سے زیادہ ان پہ تنقید کرتے ہیں۔ آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے جب آپ کا باس آپ پر چلاتا ہے؟ بے شک وہ چلانا آپکی بھلائی کیلئے ہی کیوں نہ ہو۔ بچوں کی تعریف کرنی چاہیے۔ ان سے پیار کرنا چاہیے، انکو اچھی مثالوں سے پیار سےسمجھانا چاہیے۔
حدود مقرر کرنا
گھریلو زندگی کا سب سے ضروری عمل نظم و ضبط ہے۔ بچوں کیلئے حدود مقرر ہونی چاہیے اور انکو اپنے اعصاب کو کنٹرول کرنا آنا چاہیے۔ بچوں کے کھیلنے، پڑھنے، ٹی وی دیکھنے اور ہوم ورک کرنے کے اوقات مقرر ہونے چاہیے۔ اس سے ان میں وقت کی پابندی کا احساس بھی اجاگر ہوگا اور خود اعتمادی بھی پروان چڑھے گی۔
تبادلہ خیال اولین ترجیح
والدین کو اس پہلو پر خاص توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ بلا جھجک ہر ایک بات والدین سے شئیر کرسکیں۔ عموما بچے ڈر کی وجہ سے والدین سے باتیں چھپاتے ہیں اور پھر نتیجہ نہایت خطرناک نکلتا ہے جس سے صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیڈیڈ فیڈ ہے. جس میں ادارہ نے کوئی ترمیم نہیں کی ہے. بشکریہ سچ نیوز پاکستان – اصل لنک