گوڈسے کا نظریہ آج بھی زندہ ہے: نواب ملک

ممبئی: دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پاس سی اے اے کی مخالفت کرنے والے احتجاجیوں پرگولی چلائے جانے کے واقعہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے کہا ہے کہ جس دن بابائے قوم مہاتماگاندھی کو گولی ماری گئی، اسی دن اس طرح کا واقعہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ ناتھورام گوڈسے کا نظریہ آج بھی زندہ ہے اور اس کی حمایت بھی کی جارہی ہے، جو نہایت افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے کا محرک انوراگ ٹھاکور ہے جس نے دو دن قبل ہی ملک کے غداروں کو گولی مارے جانے کا نعرہ دیا تھا۔ بی جے پی کے لیڈران کے اس طرح کے بیانات کی وجہ سے ملک کے حالات خراب ہورہے ہیں۔

نواب ملک نے کہا کہ احتجاجیوں پر فائرنگ کرنے والے نوجوان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ نابالغ ہے، لیکن اس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اسے ہتھیار کس نے فراہم کیا؟ اسے ٹرینگ کہاں سے ملی اس بات کی بھی تفتیش ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حملہ آور نوجوان جس طرح پستول لہرارہا تھا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اسے اس کے لیے ٹرینگ دی گئی تھی۔ اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ اس پورے واقعے کی سختی کے ساتھ تفتیش کی جانی چاہیے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading