شہر بھر سے خواتین کی شرکت ، سینکڑوں خواتین نے شب میں قیام کا اعلان کیا
بھیونڈی ( شارف انصاری ):- سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی کے شاہین باغ کی طرز پر بھیونڈی میں بھی آج بعد نماز جمعہ شام 4 بجے کے قریب سمیدھان بچاؤ سنگھرش سمیتی کے بینر تلے ناسک روڈ پر ملت نگر کے سامنے الراجی اور ممتا اسپتال کے درمیان کھلے میدان میں بھیونڈی کے شاہین باغ کا آغاز کیا گیا ۔ جس میں شہر کے مختلف علاقوں اور محلوں سے بڑی تعداد میں خواتین بھیونڈی کے شاہین باغ میں شرکت کی جس کے سبب پورا گراونڈ کھنچا کھنچ بھر گیا تھا ۔ جبکہ پالگھر ضلع سے آئی آدیواسی خواتین نے بھی اس احتجاج میں شرکت کی اس قبل آدیواسی خواتین نے اپنا روایتی ڈانس پیش کرکے احتجاج بھی درج کرایا ۔ وہیں بچوں کے ہمراہ منتظمین نے ایک ریلی نکالی جس میں مختلف قسم کی جھانکیوں کے ساتھ ساتھ بچوں نے مہاتما گاندھی ، ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر ، مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ کی جھانکی میں انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائیں ۔
واضح ہو کہ بھیونڈی شاہین باغ کا آغاز با آواز بلند دستور ہند کی تمہید پڑھ کر کیا گیا ۔ اس موقع پر بھیونڈی کے سابق ڈی سی پی شریس کھوپڑے ، ایڈوکیٹ کرن چننے ، وجئے کامبلے ، فاضل انصاری ، جاوید انجینئر ، شمیم انصاری ( جناب ) ، مولانا اوصاف فلاحی ، مولانا امتیاز فلاحی ، مفتی محمد حذیفہ قاسمی، شاداب عثمانی ، انجینئر دراج کامنکر ، ڈاکٹر یاسین قاضی وغیرہ موجود تھے ۔ شاہین باغ کا آغاز کرتے ہوئے سابق ڈی سی پی شریس کھوپڑے نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ ملک میں این سی آر ، سی اے اے اور این پی آر جیسے قانون کو رد کرنا چاہئے اور ملک میں بھائی چارگی اور امن و امان کے لئے ڈاکٹر بھیم راو امبیڈکر کے دستور پر عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمارا ملک سیکولر ہے اور سیکولر رہے گا ۔ ایڈاک کمیٹی کے رکن شمیم انصاری نے مجمعے اور اہلیان بھیونڈی سے مالی تعاون کی اپیل کی انھوں نے کہا کہ عوام کی لڑائی عوام کے پیشوں سے لڑی جائیگی ۔ اس سلسلے میں شاہین باغ کے داخلی دروازے پر چندے کے لئے باکس رکھیں گئے ہے ۔ انھوں نے مزید بتایا کہ یہ احتجاج شام 4 بجے سے لے کر رات 8 بجے تک چلیں گا ۔ اسی کے ساتھ ہی رات میں قیام کرنے کے لئے خصوصی انتظام کئے گئے ہے جس میں اب تک دو سو سے زائد عورتوں نے احتجاجی طور پر قیام کرنے کی رضامندی ظاہر کی ۔ جبکہ کے انتظامی امور میں سواتی کامبلے اور ریحانہ ہلال انصاری نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ وہی اس موقع پر رکشا چالک مالک مہاسنگھ کی جانب سے شہر سے شاہین باغ تک خواتین کو پہنچانے کے لئے فری خدمات کا اعلان کیا گیا تھا ۔ جس کے مطابق آج شہر کے اہم ناکوں سے تقریبا 300 رکشاء ڈرائیوروں نے خواتین کو شاہین باغ تک پہنچاتے نظر آئے ۔ اسی طرح احتجاج کے لئے بھیونڈی کے شاہین باغ میں شریک خواتین کے لئے سہولیات مہیا کرانے کے ساتھ ساتھ بیت الخلاء کا بھی انتظام کیا گیا ہے ۔ جبکہ پروگرام کو پرامن طریقے سے جاری رکھنے اور خواتین کی حفاظت کے لئے مظاہرے کی جگہ پر اور سڑکوں پر 500 کے قریب نوجوانوں نے رضاکار کے طور پر اپنے خدمات پیش کر رہے ہے ۔ ایمبولینس کے ساتھ ساتھ ادویات ، پانی کا بھی معقول انتظام کیا گیا ہے ۔