گربا کی حقیقت 🖊 صادق مصباحی

ادھر کچھ دنوں سے "گربا رقص” کا بہت شور سننے میں آ رہا ہے, مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ کون سی بلا ہے! لیکن کئی ہندو گروؤں کا بیان سنا کہ مسلمان اس میں شریک نہ ہوں, اگر وہ شریک ہوتے ہیں اور کچھ ہوتا ہے تو اس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔ اس طرح کے بیان سننے سے شوق پیدا ہوا کہ ذرا اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے, اور اس کا حکم شرع معلوم کیا جائے ۔ ویکی پیڈیا کے ذریعے جو کچھ میں سمجھ سکا, پہلے اسے درج کرتا ہوں!

” گربا سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنی "کوکھ” یا "رحم مادر” کے ہیں۔گربا, ہندوؤں کاایک گجراتی علاقائی (فولک) ناچ ہے جسے نوراتری کےموقع پر ناچا جاتا ہے۔ (نوراتری نو راتوں کا تہوار ہے۔)
گربا کا انداز گجرات کے مختلف علاقوں میں مختلف ہوتا ہے روایتی طور پر یہ ناچ گیلی مٹی کے ایک گڑھے میں کیا جاتا ہے جس کے اندر روشنی کا انتظام ہو ۔ اسے گربا دیپ (یعنی روشن کوکھ) کہا جاتا ہے۔
ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق روشنی یا لالٹین زندگی کی عکاسی کرتا ہے اور ناچ کے حوالہ سے اس کا مطلب کوکھ میں بچہ ہوتا ہے۔ یہ ناچ ہندو دیوی درگا کو خوش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے جو ان کے نزدیک نسوانیت کی دیوی ہے۔شروع میں درگا کے قریب
سچھدر گھڑے میں دیپ لے جانے کے سلسلے میں یہ رقص ہوتا تھا۔ اس طرح یہ "کم ديپ گربھ” کہلاتا تھا۔ پھر اختصار کے پیش نظر اسے ” گربا ” کہا جانے لگا۔
نوراتری کے دنوں میں لڑکیاں کچے مٹی کے سچھدر گھڑے کو پھول پتي سے سجاكر اس کے چاروں طرف رقص کرتی ہیں۔

ہندو دھرم میں گربا کو خوش قسمتی کی علامت خیال سمجھا جاتا ہے اسے اشون ( کوار, جیٹھ) ماہ کی نوراتری کو گربا نرتيوتسو کے طور پر منایا جاتا ہے۔
نوراتری کی پہلی رات کو گربا قائم ہوتی ہے۔ پھر اس میں چار جيوتيا پرجولت کی جاتی ہے۔ پھر اس کے چاروں طرف تالی بجاتے پھیرے لگائی جاتی ہے۔
گربا رقص میں تالی، چٹکی، كھجري، ڈنڈا، مجرا وغیرہ کا تال دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور لڑکیاں دو یا چار کے گروپ میں مل کر مختلف طرح سے اورتن کرتی ہیں اور گیت یا كرشليلا والا گیت گاتی ہیں۔ یہ گیت گربا اور ویشنو یعنی رادھا کرشن کے ورن والے گیت گربا کہے جاتے ہیں۔ موجودہ دور کا گربا ناچ ڈانڈیہ راس (گجراتی زبان: ડાંડીયા) سے متاثر ہے۔ یہ مردوں کا ناچ ہے جس میں خواتین حصہ نہیں لیتی ہیں۔ انہی دو ناچوں کو ضم کرنے سے موجودہ دور کا "گربا ناچ” بنتا ہے۔

اس میں ہندو مرد اور خواتین رنگ برنگے کپڑے زیب تن کرتے ہیں اور گربا اور ڈانڈیہ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ گربا کا نسوانی لباس چنیا چولی ہے۔ یہ تین کپڑوں والا لباس ہے جس میں چولی کے ساتھ ایک رنگ برنگی بلاوز اور ساتھ میں چنیا ہوتی ہے۔ چنیا نیچے پہنی جاتی ہے جس کی بناوٹ اسکرٹ جیسی ہوتی ہے۔ اوپر عورتیں سر پر دوپٹہ رکھ لیتی ہیں, جسے گجراتی روایتی انداز میں اوڑھا جاتا ہے۔”

ویکی پیڈیا پر موجود مذکورہ تفصیلات سے
یہ بات واضح ہو گئی کہ گربا رقص, ہندو لوگ اپنے مشہور تہوار نوراتری اور دشہرہ کی مناسبت سے منعقد کرتے ہیں۔ ( دشہرہ, یا وجے دشمی درگا کی پیدائش / گنگا کی پیدائش / رام کی راون پر فتح کی مناسبت سے منایا جانے والا ہندؤوں کا ایک بڑا تہوار ہے)
اس رقص کا مقصد ہندو دیوی درگا( جو کبھی بنگال کی دیوی مانی جاتی تھی, ادھر کچھ برسوں سے پورے بھارت کی دیوی بنا دی گئی ہے) کو خوش کرنا ہے۔ اس میں ہندؤوں کے مشہور دیوتا وشنو, اوتار کرشن اور رادھا کی تعریف و توصیف پر مشتمل گیت/ نغمے بھی گائے جاتے ہیں۔

مطلب یہ کہ ” گربا” صرف ایک ناچ, سنسکرتی اور ثقافت نہیں, بلکہ ہنود کا دھارمک تہوار ہے ۔ اور شرع شریف کا حکم بہت واضح ہے کہ جو کام خاص غیروں کی ایجادات سے ہو, اور وہ ان کا مذہبی شعار بھی ہو تو اس میں شرکت کی ہرگز اجازت نہ ہوگی, اگر مشابہت کا قصد نہ بھی ہو تو کم از کم اشد حرام, اور مشابہت کا قصد وارادہ تو کفر, جس سے توبہ, تجدید ایمان لازم ۔

کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہندؤوں کے دھرم گرو مسلمانوں کو روک رہے ہیں کہ ہمارے پروگراموں میں نہ آؤ, مگر یہ ہیں کہ مانتے نہیں اس لیے اپنے بھائیوں کو خیر خواہی کے جذبے کے پیش نظر ایسے پروگراموں میں شرکت سے روکا جائے اور انھیں سمجھایا جائے کہ اس سے دنیا وآخرت دونوں میں رسوائی اور ذلت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے والا ۔
استغفر اللہ من کل ذنب واتوب الیہ

صادق مصباحی

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading