کیرالہ کے ملپورم ضلع واقع تنور میں گزشتہ شب مسلم لیگ کے ایک کارکن کا برسرعام قتل کر دیا گیا جس کے بعد علاقے میں سراسیمگی پھیلی ہوئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جمعرات کو 38 سالہ ایم. اسحاق نماز پڑھنے کے بعد گھر کی طرف لوٹ رہے تھے جب شر پسند افراد نے ان پر تیز دھار والے اسلحوں سے حملہ کر دیا۔ اس سلسلے میں مقامی پولس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 302 کے تحت معاملہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی ہے۔
Kerala: A 38 year-old Indian Union Muslim League worker was hacked to death in Tanur town yesterday. The police has registered a case under section 302 of the Indian Penal code.
— ANI (@ANI) October 25, 2019
خبروں کے مطابق اسحاق حملہ کے بعد بری طرح زخمی ہو گیا تھا اور جب شرپسند افراد وہاں سے فرار ہوئے تو اسحاق کو قریب کے اسپتال میں بغرض علاج داخل کرایا گیا۔ زخم اتنا گہرا تھا کہ مسلم لیگ کارکن اس کی تاب نہیں لا سکا اور اسپتال میں ہی دم توڑ دیا۔
مسلم لیگ کے لیڈروں کا اس قتل واقعہ کے تعلق سے کہنا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند قتل تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جس علاقے میں قتل کا یہ واقعہ انجام دیا گیا ہے وہاں پولس موجود تھی لیکن اس کو روکنے میں ناکام رہی۔ مسلم لیگ کے لیڈروں نے اس قتل کا الزام سی پی آئی ایم کارکنان پر لگایا۔ پولس کا بھی یہی کہنا ہے کہ اس علاقے میں اکثر دو پارٹیوں کے کارکنان کے درمیان پرتشدد واقعات پیش آتے رہے ہیں اور انھیں شبہ ہے کہ یہ قتل بھی اسی طرح کے تشدد کا نتیجہ ہے۔ بہر حال، ملپورم ضلع کے سی پی آئی کمیٹی کے اراکین نے اس طرح کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ ایم. اسحاق کے قتل میں ان کے پارٹی کارکنان کا کوئی ہاتھ ہے۔
مسلم لیگ کارکن کے قتل کی وجہ سے 25 اکتوبر کو ملپور ضلع میں بند کا اعلان کیا گیا تھا اور آج پارٹی کارکنان نے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے۔ آج رکھے گئے اس بند کے پیش نظر بڑی تعداد میں پولس فورس کی تعیناتی بھی کی گئی تھی۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
