ناندیڑ:31/ مئی(ورق تازہ نیوز)ناندیڑ لوک سبھا حلقہ انتخاب کےلئے دوسرے مرحلے میں26۔ اپریل 2024 کو رائے دہی عمل میں آئی تھی۔ ناندیڑ کے چناو پرساری ریاست کی نظریں مرکوز ہیں کیونکہ 2019کے لوک سبھا انتخابات میں بی جےپی کے موجودہ رکن پارلیمنٹ پرتاپ پاٹل چکھلی کر کے خلاف انتخابی میدان میں کانگریس پارٹی سے انتخاب لڑنے والے سابقہ وزیراعلیٰ اشوک راو چوہان اب بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی اور اب بی جے پی سے ناندیڑ کے راجیہ سبھا رکن منتخب ہوئے ہیں۔
اسلئے اشوک راو کی بی جے پی میں شمولیت کے بعد اچانک کانگریس میں ہلچل مچ گئی تھی اورناندیڑمیں پارٹی کے ہزاروں عہدیداران اور کارکنان نے بھی بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے اسلئے ابتداء میں یہ کہاجارہاتھا کہ ناندیڑمیں بی جے پی کےلئے لوک سبھا انتخابات میں جیت بہت آسان ہوجائے گی۔لیکن ناندیڑمیں کانگریس پارٹی کےعہدیداران نے پوری مضبوطی کیساتھ لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیااور مہا ویکاس اگھاڑی کی جانب سے وسنت راو چوہان(سابقہ رکن اسمبلی نائیگاوں) کوٹکٹ دیاگیا
۔جیسے جیسےانتخابات کی سرگرمیاں تیز ہوئیں اور رائے دہی کے دن تک اچانک مہا ویکاس اگھاڑی کے امیدوار وسنت چوہان کی پوزشن کافی مضبوط ہوگئی۔اور بی جے پی کو ٹکر دینے کی پوزشن میں آگئی اوردونوں میں کاٹے کامقابلہ ہوا ۔ضلع بھر میں مسلمانوں نے لوک سبھا انتخابات میںپوری لگن و محنت کیساتھ حق رائے دہی ادا کیااور ریکارڈ تعدادمیں ووٹنگ کی ۔مگر ونچت بہوجن اگھاڑی جس نے سابقہ لوک سبھاانتخابات میں اپنا امیدوار کھڑا کیاتھا جس نے تقریبا پونے دو لاکھ کے قریب ووٹ حاصل کئے تھے جس میں کانگریس کے امیدواراشوک چوہان کوشکست ہوئی تھی ۔
اس مرتبہ بھی ونچت اگھاڑی نے ایڈوکیٹ بھوسی کر کومیدان میں اُتارا ہے جس نے پھر ایکبار ایسا لگتا ہے کہ کانگریس کا کھیل بگاڑا ہے ۔سوشل میڈیا پرلوک سبھا انتخابات 2024میں کونسے امیدوار کو کتنے ووٹ ملیں گے اسکے ایک اعداد وشمار کی فہرست گشت کررہی ہے۔ اور ایسا کہاجارہا ہے کہ فہرست بی جے پی نے تیار کی جس کے مطابق بی جے پی امیدوار پرتاپ پاٹل چکھلی کر 41ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیاب ہوگا۔بی جے پی امیدوار کو کُل 5لاکھ 18ہزار ووٹ ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے ۔جبکہ کانگریس کے وسنت راو چوہان کو 4لاکھ 77ہزار ووٹ مل رہے ہیں۔
دوسری جانب ونچت اگھاڑی کے بھوسی کر کوکُل1لاکھ 3ہزار ووٹ ملیں گے۔جبکہ دیگر و آزاد امیدواروں کو33ہزار633 ووٹ مل سکتے ہیں۔ان اعدادوشما ر کے مطابق کانگریس پارٹی یعنی مہاویکاس اگھاڑی امیدوار چوہان کو 41ہزار ووٹوں سے شکست ہوسکتی ہے ۔مگر 4 جون کو رائے شماری کے بعد ہی اصل نتائج معلوم ہوسکیں گے۔جس کاعوام کو بے صبری سے انتظار ہے ۔سوشل میڈیا پر وائرل اعدادوشمار یہ ہے
