ایک لمبی بیماری کے بعد سابق وزیر خزانہ ارون جیٹلی کا آج ایمس میں انتقال ہوگیا وہ 66 سال کے تھے وہ سیاسی حلقوں میں بہت مقبول تھے۔ ارون جیٹلی، سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی اور سابق وزیر خارجہ سشما سوراج کے بعد بی جے پی کے تیسرے بڑے رہنما ہیں جن کا انتقال اگست کے مہینے میں ہوا ہے۔ ان کے انتقال نے یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ ماہ اگست بی جے پی کے لئے اچھا نہیں ہے۔
بی جے پی کے حلقوں میں جہاں صدمہ کا ماحول ہے وہیں دبے الفاظ اس بات کا بھی ذکر ہو رہا ہے کہ بی جے پی کے لئے اگست کا مہینہ خراب ہے۔ خراب کہنے والوں کا ماننا ہے کہ پارٹی کے تین قدآور رہنماؤں کا ماہ اگست میں دنیا چھوڑ کر چلے جانے سے لگتا ہے کہ یہ ماہ بی جے پی کے لئے بدشگون ہے۔
واضح رہے کہ بی جے پی کو بنانے میں ان تین رہنماؤں کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ اٹل بہاری واجپئی پارٹی کے ایسے رہنما تھے جن کا احترام تمام پارٹیوں کے سیاست داں کرتے تھے اور وہ دو ارکان پارلیمنٹ والی پارٹی کو اقتدار میں لانے میں کامیاب رہے تھے، انہوں نے اپنی سیاسی صلاحیتوں کے ذریعہ بی جے پی کی جنوب ہند میں بھی توسیع کی تھی۔ سشما سواراج نے بھی پارٹی کی توسیع میں اہم کردار ادا کیا۔ ارون جیٹلی کو انتخابی حکمت عملی کا ماہر مانا جاتا تھا اور انہوں نے پارٹی کو موجودہ پوزیشن تک پہنچانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
