گزشتہ کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر اسد الدین اویسی ایم پی حیدرآباد اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر کے تعلق سے ایک پوسٹ وائرل کی جارہی ہے. جس میں کہا گیا ہے کہ اویسی نے اقوام متحدہ میں شکایت کی کہ ہندوستان میں مسلمان محفوظ نہیں ہے جس پر یو این کا جواب آیا ” جہاں محفوظ ہے وہاں چلے جاؤ ” لیکن کہا واقعی اویسی نے ایسا کوئی خط اقوام متحدہ کو بھیجا تھا ؟

کس نے کیا پوسٹ وائرل:
فیس بک پر اچھے دن نامی ایک پیج نے اس پوسٹ کو بہت زیادہ وائرل کیا ہے.اس پیج کو تقریباً 130 لاکھ صارفین فالو کرتے ہیں۔ اس پیج کے علاوہ انفرادی طور پر بھی اس تصویر کو بہت سے صارفین نے شیئر کیا۔یہ تصویر 6 جنوری کو اس پیج پر اپلوڈ کی گئی تھی اور اس کو 16 ہزار سے بھی زیادہ مرتبہ شیئر کیا گیا تھا۔


اویسی نے کہا:
یہ بالکل جھوٹ ہے اور ٹرولس کی حرکتیں ہیں۔ آپ اس تعلق سے میرا وہ بیان غور فرمائیں جو میں نے سماجوادی پارٹی کے لیڈر اعظم خان صاحب کے اس عمل کے رد عمل میں دیا تھا جب انہوں نے دادری ماب لنچنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کو خط لکھ کر مرکزی حکومت کی شکایت کی تھی۔ میں نے اس وقت لکھا تھا کہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے لہٰذا اسے اقوامِ متحدہ لے جانے کا جواز ہی نہیں ہے۔اسی طرح گزشتہ دنوں میں بھی میں نے پاکستان کے پرائم منسٹر عمران خان صاحب کے بیان کی بھی مذمت کی تھی جب وہ ہندوستانی مسلمانوں کی زیادہ ہی فکر کر رہے تھے۔
آلٹ نیوز کی تفتیش اور براہ راست اسد الدین اویسی سے رابطہ کرنے کے بعد یہ پختہ طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ فیس بک پر وائرل ہونے والی تصویر جھوٹی تھی۔