امریکہ کے اندر سٹورز میں اچار کی خوشبو، تیار مسالوں کے ڈبے، ٹن پیک ساگ اور باستمی چاول، یہ مناظر پاکستان یا انڈیا کی کریانہ دکانوں جیسے ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ امریکہ میں اپنے کسی دوست یا رشتے دار کے ساتھ پاکستانی انڈین کمیونٹی والے علاقوں میں ان دکانوں میں گئے ہوں۔
نیویارک سمیت امریکہ کے مختلف شہروں میں ایسی بہت سی دکانیں ہیں جہاں ہر طرح کی پاکستانی اور انڈین مصنوعات فروخت ہوتی ہیں اس کے علاوہ مشہور امریکن سٹورز جیسے’ٹارگٹ‘، ’وال مارٹ‘ اور ’کوسٹ کو‘ میں بھی انڈین سیکشن ہیں جہاں انڈین برانڈ، ہلدی رام کے مسالے، باسمتی چاول اور خشک میوے وغیرہ فروخت ہوتے ہیں امریکہ کے بڑے چین سٹورز اور برینڈز انڈیا، چین، بنگلہ دیش اور پاکستان کے بنے ہوئے کپڑے اور ٹیکسٹائل مصنوعات سے بھرے پڑے ہیں۔
امریکہ نے انڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا ہے جس کے بعد جہاں ایک طرف یہ خدشہ ہے کہ امریکی صارفین کے لیے انڈین مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی تو وہیں مبصرین کا خیال ہے کہ اب امریکی منڈیوں میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
عائزہ عرفان امریکہ کے شہر نیویارک میں رہتی ہیں جہاں بڑی تعداد میں انڈین اور پاکستانی کمیونٹی موجود ہے۔ وہ اور اُن کے اہلخانہ دیسی کھانے پسند کرتے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’ہم اپنے کچن یا کھانے پینے کی اشیا کی خریداری انڈین سٹور سے کرتے ہیں اور ان میں 50 سے 60 فیصد اشیا ایسی ہیں جو انڈیا سے امپورٹ ہوتی ہیں۔ ویسی ہی امریکہ میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ٹیرف (پر مکمل عملدرآمد) کے بعد قیمتیں مزید بڑھیں گی اور اثر ہم سب پر ہو گا۔‘
دوسری جانب چین، انڈیا اور دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستانی مصنوعات پر امریکہ نے 19 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے جس کے بعد پاکستانی حکام پُرامید ہیں کہ مقامی مصنوعات کی امریکی منڈیوں تک رسائی بہتر ہو سکتی ہے۔امید کے برعکس حقیقیت کیا ہے اور کیا اس ’ٹیرف وار‘ میں پاکستان امریکی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکتا ہے؟ یہی جاننے کے لیے ہم نے تجارتی ڈیٹا کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستانی ایکسپورٹرز، تجارتی و اقتصادی ماہرین سے بات کی۔صدر ٹرمپ نے انڈیا پر پہلے 25 فیصد اور بعد میں روس سے تیل کی خرایدری کو جواز بنا کر دوبارہ 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے جس کے بعد انڈیا پر مجموعی ٹیرف 50 فیصد ہو گیا ہے۔
رواں ماہ کے آخر سے انڈیا پر اضافی ٹیرف کے نفاذ سے انڈین مصنوعات امریکی منڈیوں میں مہنگی ہونے سے کاروباری مسابقت کھو سکتی ہیں۔بعض اقتصادی ماہرین اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیز کے مطابق امریکی ٹیرف کے نفاذ سے انڈیا کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) متاثر ہو سکتی ہے امریکہ اور انڈیا کے درمیان دو طرفہ تجارتی حجم 128 ارب سے زیادہ ہے۔
امریکہ کے سینسز بیورو کے مطابق انڈیا امریکہ کو بڑی تعداد میں ادویات سازی میں استعمال ہونے والا میٹیریئل، ٹیکسٹائل مصنوعات، قیمتی پتھر اور سونے چاندی سے بنے زیوارت، چاول، مسالہ جات، چائے کی پتی سمیت پیٹرو کیمیکل مصنوعات فروخت کرتا ہے۔امریکی محکمۂ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 میں انڈیا نے امریکہ کو 87 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کیں جبکہ انڈیا نے امریکہ سے 41 ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت کی مصنوعات خریدی ہیں۔مگر اس تجارتی حجم کا جھکاؤ انڈیا کی طرف رہا ہے۔ صرف مصنوعات میں انڈیا کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ 45 ارب 80 کروڑ ڈالر ہے۔
کیا پاکستانی اشیا انڈین مصنوعات کا متبادل ہو سکتی ہیں؟
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انڈیا امریکہ کا دوست ہے لیکن اس کے باوجود انڈیا اور امریکہ کی تجارتی شراکت داری ’منصفانہ بنیادوں پر نہیں ہے۔‘رواں سال فروری میں انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تھا اور 2030 تک دو طرفہ تجارتی حجم 500 ارب ڈالر تک لے جانے پر اتفاق کیا تھا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عائزہ نے بتایا کہ وہ کچن کی خریداری کے لیے مسالہ جات جیسے ہلدی، باستمی چاول اور دیسی ڈشز تیار کرنے والے اجزا ’دیسی سٹورز‘ سے خریدتی ہیں جہاں یہ تازہ اور قدرے سستے ہوتے ہیں۔ وہ ان دیسی سٹورز کے حوالے سے انڈین نژاد امریکی ریٹیلرز ’پیٹل برادرز‘ اور ’اپنا بازار‘ کی مثالیں دیتی ہیں۔ یہ ایسے سٹورز ہیں جو امریکہ بھر میں پھیلے ہوئے ہیں اور براہ راست سامان انڈیا سے منگوا کر سستے داموں پر بیجتے ہیں۔
مگر انھیں خدشہ ہے کہ ٹیرف کے نفاذ کے بعد مہنگی انڈین پروڈکٹس اُن کی جیب پر بھاری ہوں گی اور ہو سکتا ہے کہ انھیں سستے متبادل پر منتقل ہونا پڑے۔ماہرین اور اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین اور انڈیا پر ٹیرف عائد ہونے کے بعد امریکی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کے لیے گنجائش بڑھ گئی ہے۔
سال 2025 میں پاکستان کی مجموعی برآمدات 35 ارب 90 کروڑ ڈالر رہیں۔ امریکی محکمۂ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور امریکہ کے مابین مجموعی تجارت سات ارب 20 کروڑ ڈالر ہے۔
سنہ 2024 کے دوران پاکستان نے امریکہ کو پانچ ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کیں جبکہ امریکہ سے دو ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات خریدی گئیں۔امریکہ اُن چند ممالک میں شامل ہے جن کے ساتھ پاکستان کی تجارت خسارے کے بجائے سرپلس میں ہے