ڈاکٹر فہیم خاں
جب ہڈیاں کم زور ہو جاتی ہیں تو ان میں خستگی اور بھُر بھُراپن پیدا ہو جاتا ہے ۔ہڈیوں کا بھُر بھُراپن (OSTEOPOROSIS)ایک خاموش بیماری ہے۔یہ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوتی،جب تک کہ جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹ نہیں جاتی۔ہڈیاں جان دار بافتوں(TISSUES)کی مانند ہیں ،جو ہٹتی اور بدلتی رہتی ہیں ۔چناںچہ انھیں افزایش کے لیے متوازن اور صحت بخش غذاؤں کی ضرورت پڑتی ہے ،مثلاً کیلسےئم،ہارمون،حیاتین”د“(وٹامن ڈی)،حرارے(کیلوریز)اورلحمیات(پروٹینز)وغیرہ ۔
انھیں صحت مند رکھنے کے لیے بھاری ورزش کی بھی ضرورت پڑتی ہے ،مثلاً دوڑنا،تیز قدموں سے چلنا،زینے پر چڑھنا اترنا یا ٹینس کھیلنا سود مند ثابت ہوتاہے۔
علامات۔
عام طور پر جسم کی کوئی ہڈی ٹوٹنے کے بعد ہی پتا چلتا ہے کہ ان میں بھُر بھُرا پن پیدا ہو چکا ہے اور وہ خستہ ہو چکی ہیں
عموماً سفر کے دوران اُترتے چڑھتے ،غلط اندا زسے اُٹھتے بیٹھتے یاکھڑے ہوتے وقت اچانک گرجانے کی وجہ سے جسم کی ہڈی ٹوٹ جاتی ہے۔جب کوئی بوڑھا ہو جاتا ہے تو ہڈیوں میں ٹوٹ پھوٹ اور ان میں تبدیلی عمل میں آنے لگتی ہے ۔وہ افراد جن کی ہڈیاں بھُر بھُری یاخستہ ہوجاتی ہیں ،ان کے ساتھ یہ واقعات زیادہ پیش آتے ہیں ۔ہڈیوں کے بھُر بھُرے ہونے کی بنا پر ہلکا سادھچکا لگنے سے وہ ٹوٹ جاتی ہیں۔جب ہڈیاں بھُر بھُری ہوجاتی ہیں تو پھر جسم کے سارے ڈھانچے کو متاثر کرتی ہیں ۔کچھ حصے ایسے ہوتے ہیں ،جہاں ٹوٹ پھوٹ زیادہ ہوتی ہے،مثلاً کلائیاں،ریڑھ کی ہڈی اور کولھے کی ہڈی۔
ہڈیوں کے بھُر بھُرے پن کی علامات
کمرکے اوپری،درمیانی اورنچلے حصے میں درد ہوتاہے۔
قامت تقریباً دو سینٹی میٹر کم ہو جاتی ہے ۔
پیٹھ پر کُب(کوہان)بننے لگتاہے۔
کن افراد کو زیادہ خدشات ہوتے ہیں؟
(آرتھوپیڈک)سے مشورہ بہت ضروری ہے۔