بھیونڈی ( شارف انصاری):- بھیونڈی میں ایک بار پھر شدید آگ لگنے کا حادثہ رونما ہوا ہے اس بار آگ بھیونڈی تعلقہ کے سرولی ایم آئی ڈی سی کے ایک پروسس ہاؤس میں لگی ہے جس کی وجہ سے پروسس ہاؤس سمیت سات دکان بھی جل کر خاکستر ہو گئی ۔ حالانکہ فائر بریگیڈ کے جوانوں نے سخت مشقت کے بعد آگ پر سات گھنٹوں میں قابو تو پالیا لیکن اس آتشزدگی میں کروڑوں کا مال جل کر خاکستر ہوگیا ۔کمپنی بند ہونے کی وجہ سے آتشزدگی میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔
واضح ہو کے بھیونڈی میں ان دنوں آگ لگنے کے حادثات میں زوردار اضافہ ہو رہا ہے ۔ تعلقہ کے سرولی علاقے میں انل شرما کی تین منزلہ اجاگر پرنٹنگ اور پروسس ہاؤس پرا ، لی، نامی کمپنی ہے ۔ اس ڈائینگ کمپنی میں پیر کی صبح ساڑھے پانچ بجے اچانک آگ لئی ۔ اطلاع کے دیڑھ گھنٹے کے بعد بھیونڈی اور آس پاس کے نصف درجن فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ۔تب تک آگ بھیانک شکل اختیار کر چکی تھی ۔ آتشزدگی کی سنگینی میں آس پاس کے چھ دکان بھی آگ کی لپیٹ میں آگئی ۔ فائر بریگیڈ کے جوانوں نے ڈائینگ میں پھنسے نصف درجن سے زیادہ مزدوروں کو کمپنی سے باہر نکال کر تقریبا سات گھنٹے کی انتھک کوششوں کے بعد آگ پر قابو پايا ۔ اہم بات یہ ہے کہ آتشزدگی کی شکار ڈائینگ کے بغل کی ڈائینگ میں پانی کی مناسب بندوبست ہونے کی وجہ سے فائر بریگیڈ آگ کے جوانوں کو پانی کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ فائر بریگیڈ کے جوانوں کا کہنا ہے کہ آگ پوری طرح منگل کی صبح تک بجھےگی ۔ بتادیں کہ کمپنی میں جس وقت آگ لگی اس وقت کمپنی بند ہونے کی وجہ سے بڑا حادثہ ہونے سے ٹل گيا ۔ حالانکہ ابھی تک آگ لگنے کے صحیح وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے ۔ لیکن كونگاوں پولیس اسے آتشزدگی حادثے کا معاملہ درج كرکے اپنی تحقیقات شروع کر دی ہے ۔ اس واقعہ سے ڈائینگ مالكان میں خوف و ہراس پھیل گئی ہے ۔ بتا دیں کہ گزشتہ 15 دنوں میں آگ لگنے کا یہ پانچواں حادثہ ہے۔