’کھنڈر دیار وفا کے کرید کر دیکھو، ہمارے نام کا پتھر ضرور نکلے گا‘

مرادآباد: 88 سال کی بزرگ خاتون چندہ بی نے کہا کہ ہم یہیں پیدا ہوئے ہیں اور اسی دیار وفا میں دفن بھی ہوں گے۔ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مرادآباد عید گاہ میں ہو رہے احتجاج کے تیرہویں دن مرد اور خواتین پوری طرح سے ڈٹے ہوئے ہیں، شاہین باغ بنی مرادآباد کی عید گاہ میں موجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت جب تک ملک اور عوام کو تقسیم کرنے والے قانون کو واپس نہیں لیتی تب تک ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

عید گاہ کے میدان میں موجود مظاہرین کی حوصلہ افزائی کرنے پہنچیں بزرگ خاتون چندہ بی نے کہا کہ میں نے اپنے بزرگوں کو انگریزوں کے خلاف آزادی کی لڑائی لڑتے ہوئے دیکھا ہے، انھوں نے صرف اس لئے اپنی جان و مال کی قربانیاں دیں تاکہ ہمارے بچے آزاد ہندوستان میں سانس لے سکیں، مگر کیا معلوم تھا کہ ہندوستان میں ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ یہاں فرقہ پرستوں کا بو ل بالا ہوگا اور ایک بار پھر فرقہ پرستی سے اپنے ملک کو بچانے کے لئے لڑائی لڑنی ہوگی۔ لیکن فرقہ پرست یہ سمجھ لیں کہ ہندوستان کو آزاد کرانے میں جن ہندو،مسلم، سکھ اور عیسائی بزرگوں نے اپنی اپنی قربانیاں پیش کی ہیں اسے ہم کسی طرح بھی برباد نہیں ہونے دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ملک ہر ہندوستانی کا ہے اور کسی کی یہ طاقت نہیں کہ وہ ہندوستانیوں کو مذہب اور نسل کی بنیاد پر تقسیم کرسکے یا پھر کسی کو غیر ملکی قرار دے سکیں۔ انھوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہوئی دشمن ملکوں کے ساتھ جنگیں بھی میں نے دیکھیں ہیں اس وقت بھی ہر ہندوستانی نے بنا تفریق مذہب وملت اپنے ملک کی دفاع کے لئے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں ہیں۔ آج وہ لوگ جو ہمارے ووٹ سے اقتدار پرقابض ہوئے ہیں وہی ہم سے ہمارے ہندوستانی ہونے کا ثبوت مانگ رہے ہیں، یہ بڑے حیرت کی بات ہے۔

انھوں نے کہا کہ فرقہ پرست سوچ رکھنے والے حکمراں یہ سمجھ لیں کہ ہمارے خون کے ہر قطرے میں وفاداری ہے ہم اپنے ہندوستان کے آئین کوبچانے کے لئے ہر طرح کی قربانی دینے کو آج بھی تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکمراں یہ سمجھ لیں کہ اگر انھوں نے ہوش سے کام نہیں لیا تو ایک دن انھیں اپنے ہندوستانی ہونے کا ثبوت ملک کے عوام کو دینا پڑے گا۔ بزرگ چندہ بی نے تیرہ دن سے عید گاہ کے میدان میں ڈٹی ہوئی خواتین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ اپنے گھروں سے باہر آئیں اور موجودہ وقت کے حکمرانوں کو یہ بتا دیں کہ ہم گھروں میں روٹی بنانا یا چولھا پھونکنا ہی نہیں جانتے بلکہ وقت پڑنے پر اپنے ملک کی دفاع کرنا بھی جانتے ہیں۔

انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی محنتوں سے اپنے بچوں کو پالا اور تعلیم دلائی ہے اور اپنے بچوں کو ملک سے وفاداری کا سبق دیا ہے مگر بی جے پی حکومت ملک میں اقتصادی، تعلیمی ترقی کے بجائے ملک میں انارکی پھیلا کر اپنا الو سیدھا کرنے میں لگی ہوئی ہے جو کسی حال میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

سماجی رکن سید مصطفیٰ علی نے اپنی والدہ کے اس بیان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فرقہ پرست اور کم سمجھ لوگ یہ دیکھ لیں کہ پردہ نشین خواتین بھی اپنے دلوں میں ہندوستان کی بقا کے لئے کتنی فکر رکھتی ہیں۔ ان کم عقلوں کو جو یہ کہتے ہیں کہ مسلم مرد اپنی عورتوں کو چہار دیوراری میں قید رکھتے ہیں انھیں ملک میں ہو رہے احتجاجوں جن میں بیشتر مسلم خواتین کی حصہ داری ہے کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مسلم خواتین کسی طرح سے بھی بے پرواہ نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جس قوم کی مائیں اتنی بلند خیال ہوں وہ قوم کبھی بھی کمزور نہیں ہوسکتی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading