کولکاتا: وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ احتجاج ان کا قانونی حق ہے مگر کچھ لوگ بی جے پی سے روپے لے کر احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی اور تشدد کر کے پوری مہم کا رخ موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ مسلمانوں کا دوست بن کر بھی کچھ لوگ کر رہے ہیں۔
ریڈروڈ سے جلوس کی قیادت کرنے والی ممتا بنرجی نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ بنگال میں این آر سی نافذ ان کی لاش پر گزر کر ہی پاس ہوگا۔
خیال رہے کہ جمعہ سے ہی بنگال میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، کئی مقامات پر ریلوے ٹریک پر جام لگانے کی وجہ سے ریاست کے مختلف علاقوں میں ریلوے سروس متاثر ہوئی ہے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ احتجاج کے دوران کچھ باہری لوگ بی جے پی سے روپے لے کر مسلمانوں کے ہمدرد بن کر تشدد کر رہے ہیں۔
ممتا بنرجی نے یقین دلایا کہ میں زندہ ہوں اور اپنے طور پر پوری جدو جہد کررہی ہوں۔ اس کالے قانون کے خلاف میری کوشش جاری رہے گی اور مسلسل جدو جہد کرتی رہوں گی۔ وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کے خلاف پولس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ بنگال میں لااینڈ آرڈر کی صورت حال بہتر ہے۔
ممتا بنرجی نے کہا کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں مرکزی ریلوے نے ریلوے سروس کو بند کردیا ہے۔ دوسری جانب ممتا بنرجی کے جلوس کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے گورنر جگدیپ دھنکر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے مرکزی قانون کے خلاف جلوس کی قیادت نہیں کرنی چاہیے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
