کورونا کی شکل میں عذاب، وباء ہمارے لیے آزمائش

انتظامیہ کی ہدایت پر عمل آوری کریں: مسلم خاتون کانسٹبل کی مسلمانوں سے اپیل
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ٗ ۔۔۔
میں شیخ مہ جبین پولیس کانسٹبل بکل نمبر 17، لوکل کرائم برانچ، ضلع ایس پی آفس ناندیڑ، آپ سے مخاطب ہوں۔
25؍اپریل سے مسلمانوں کے ماہِ مقدس کا آغازہوچکا ہے۔ اب تک آپ نے تین روزوں کی تکمیل بھی کرلی ہے۔ مسلم برادری کو چاہیے کہ وہ کورونا کے پس منظر میں مسلم قابل احترام علماء کرام کی رہنماء ہدایتوں پر عمل آوری کریں۔ جیسا کہ آپ کو علم ہوگاکہ میں پولیس فورس میں برسرخدمت ہوں۔ جس کی وجہہ سے مجھ پر پولیس ، سول انتظامیہ، صحت انتظامیہ کی دُشواریوں، مشکلات کو دوٗر کرنے کی بھی ذمہ داری ہے۔ میری کوشش ہے کہ اسلامی تعلیمات، احکامات اور انتظامیہ کی ضرورت کو پیش کروں، تاکہ قارئین میری ان کوشش کو سمجھ سکیں، سراہ سکیں۔ مجھے توقع ہے کہ تمام مسلمان انتہائی جوش و عقیدت کے جذبے سے سرشار ہوکر ماہِ رمضان کی عبادتوں کا اہتمام کررہے ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں دعاگو ہوں گے کہ وہ سارے عالم کو اس وباء سے نجات دلائے اور یہ عذاب دوٗر کردے۔

یہی وہ ماہِ رمضان ہے جس کے تعلق سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید فرقان حمید کو نازل فرمایا۔ قرآن مجید کی سورۃ بقر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروئوں پر فرض کیے گئے تھے، اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی، چند مقررہ دنوں کے روزے ہیں، اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلیں۔‘‘ اس سے روزہ کی فرضیت کا اظہار ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیماری اور سفر کے دوران روزوں کو قضاء کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اسی ماہِ مقدس میں صدقہ، خیر خیرات اور غرض مندوں کا پیٹ بھرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’ اور اے میرے نبی ؐ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھے تو انہیں بتادو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں، پکارنے والا جب پکارتا ہے میں اس کی پکار سنتا ہوں، لہٰذا انہیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہے، مجھ پر ایمان لائے۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ نے بندوں پر لازم کردیا کہ وہ اس کے احکامات پر عمل آوری کریں۔ اس میں ہی راہِ نجات ہے اور یہی راہِ راست ہے۔ ا

للہ تعالیٰ مزید فرماتا ہے کہ ہمیں کوئی ناجائز کام ، غلط کام نہیں کرنا چاہیے، کسی کی املاک بالجبر نہیں ہتھیانا چاہیے او رکسی کی املاک ہڑپ کرنے کے لیے ہم کو انہیں حاکم کے روبرو حاضر کرنا بھی نہیں جو اللہ کی راہ میں کام کرنے والوں کے لیے رُکاوٹ بن جائیں۔ اللہ حکم دیتا ہے کہ ایسے لوگوں سے مقابلہ کرو تاہم اللہ تعالیٰ زیادتی کو پسند نہیں کرتا۔ اگر کوئی ہم سے ماہِ مقدس کے تعلق سے کچھ دریافت کرتا ہے تو ہمارا جواب یہی ہوتا ہے کہ ہم تقویٰ اور پرہیزگاری پیدا کرتے ہیں، اللہ کا قرب حاصل کرنے رمضان کی عبادت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ملک کے بلکہ ساری دُنیا کے موجودہ حالات کے پس منظر میں علمائے کرام نے قرآن و حدیث کی روشنی میں ہمیں اپنے فرائض ادا کرنے کے طریقوںمیں تبدیلی کا مشورہ دیا ہے۔ رمضان میں پنچ وقتہ نمازوں کی ادائیگی مع جمعہ کی نماز گھروں میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح رمضان المبارک میں سنت مؤکدہ بیس رکعت تراویح جس میں عام طو رپر مکمل قرآن مجید ختم کیا جاتا ہے ان ساری مذہبی سرگرمیوں کو گھر میں انجام دینے کی تاکید کی ہے۔ اسلام کے معنی ہی امن اور سلامتی کے ہے۔ ہم جس ملک میں رہتے ہیں وہاں کے قوانین پر عمل آوری کرنا ہمارے لیے ناگزیر ہے۔ ہم اس ملک کے شہری ہیں۔ فی الحال ہندوستان میں کورونا وائرس سے بچنے کے لیے حکومت نے لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت دی ہے ۔ ناندیڑ ضلع کلکٹر وپن اٹنکر او رضلع ایس پی وجئے کمار مگر اور ہم تمام پولیس ملازمین و افسران طبی محکمہ کے افسران و ملازمین کی ایک فوج اس وباء سے مقابلہ کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ اس دوران ہمیں پیش آنے والی مشکلات دُشواریوں سے ہم عاجز ہوچکے ہیں۔ لیکن ہم تمام اپنے اہل خانہ کی صحت کو دائو پر لگاکر آپ کے خاندان کے تحفظ کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔ تاہم یہ دیکھا جارہا ہے کہ ہم جن کے لیے اپنا آرام اور سکون تج رہے ہیں، قربان کررہے ہیں ایسے ہی پولیس انتظامیہ کے افراد سے لوگ بلاوجہہ جھگڑا کرتے ہیں۔ اس طرح کے 900؍معاملات درج ہوچکے ہیں۔ ہم جن سڑکوں پر اور جن راہوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں وہاں کسی بھی قسم کی سہولیات کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری ڈیوٹی ہی ہماری عبادت ہے اور عبادت سمجھ کر ہی ہم اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ہم یہ ساری تکلیف آپ کے تحفظ کی خاطر برداشت کررہے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ محکمہ صحت کا ہے۔ محکمہ پولیس اور محکمہ صحت کے لوگ تو دن رات موت کے ساتھ رقص کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ زیادتی کو پسند نہیں کرتا۔ لہٰذا ہم تمام بھائیوں کو چاہیے کہ پولیس انتظامیہ کی ہدایتوں پر عمل آوری کریں، ان کے ساتھ زیادتی نہ کریں، آپ کو جہاں پرہیزگار متقی بنانے اور اللہ سے ڈرنے والا بنانے کے لیے رمضان کے روزے آپ پر فرض کیے گئے ہیں تو آپ کو اس کی کوئی اجازت نہیں کہ آپ کی ، معاشرے کی صحت و تندرستی کی فکر کرنے والے پولیس اور محکمہ صحت کے افسران و ملازمین کے ساتھ ایسا کوئی رویہ اپنائیں جو آپ کو زیب نہیں دیتا۔ ایسا نہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی وبائیں نہیں تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی کئی وبائیں پھیلی تھیں اور آپ نے ہدایت دی تھی کہ اگر ان وبائوں سے بچنا ہو تو اپنے گھروں، اپنی بستیوں تک محدود ہوجائیں، اپنی ساری عبادتیں بھی گھروں تک محدود کرلیں۔ آج بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے۔ اس متعدی مرض کے پھیلائو کو روکنے کے لیے ہمیں آج بھی اپنی ساری عبادتوں کو اُس وقت تک گھروں تک محدود کرلینا چاہیے جب تک اللہ کا یہ عذاب ٹل نہیں جاتا۔ ہمیں اپنی ساری عبادتیں اپنے گھروں تک محدود کردینی چاہئیں۔ تاکہ کوئی ہمیں کل یہ طعنہ نہ دے سکے کہ کرے کوئی اور بھرے کوئی۔ میری دلی تمنا ہے کہ آپ صحت مند و تندرست رہے اور میری توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر قسم کی زمینی، آسمانی بلائوں سے محفوظ رکھے۔ میں نے اپنے خطاب کے آغاز میں ہی آپ کو السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ٗ سے مخاطب کیا۔ ایک طرح سے میں نے ابتداء ہی میں آپ کی سلامتی کی دُعا مانگی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں، وہ بیماری دیتا ہے تو شفاء بھی دینے کا اُسی کو اختیار ہے۔ اللہ کی ذات پر اعتماد رکھئے، انتظامیہ سے تعاون کریں۔ اگر انتظامیہ کی دی گئی ہدایتوں پر سو فیصد عمل آوری کریں تو ہم کورونا جیسی مہلک وباء یا عذاب کا بحکم خداوندی مقابلہ کرسکتے ہیں۔ انتظامیہ کی ہدایتوں کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت عقیدت و احترام سے ہم کو ماہِ رمضان میں روزوں، نمازوں، تلاوتِ کلام مجید کے ساتھ اللہ کے حضور گڑگڑاکر یہ دعا کرنی ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پریشان حال اُمت کو اس وباء سے نجات دلائے، ساری انسانیت کو اس وباء سے محفوظ رکھے۔

ازقلم: شیخ مہ جبین پولیس کانسٹبل بکل نمبر 17، لوکل کرائم برانچ، ضلع ایس پی آفس ناندیڑ
مترجم: محمد قمرالاسلام ، ناندیڑ

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading