تھانے (آفتاب شیخ). مہاراشٹر میں 2011 والا ہی این پی آر لاگو ہوگا اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہ ہمارا وعدہ ہے ۔ اس طرح کا بیان ممبرا سے ایم ایل اے و کابینی وزیر برائے ہاوسنگ ڈاکٹر جتیندر اوہاڈ نے ذرائع ابلاغ کے سامنے بات کرتے ہوئے دنیا بھر میں پھیلی بیماری کے سبب شاہین باغ احتجاج ملتوی کرنے کی بھی مظاہرین سے اپیل کی ہے ۔
ان دنوں دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلا ہے ہوا ہے جس کے سبب پوری دنیا میں بھیڑ بھاڑ والے پروگرام نہ کرنے ایک دوسرے سے دوری بنائے رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے اسی کے چلتے مہاراشٹر حکومت نے بھی پانچ ریاستوں میں مالز، تھیٹرس، جیم ، سوئمنگ پل وغیرہ کو بھی بند کردیا ہے۔ اسی کے چلتے کابینی وزیر مہاراشٹر جتیند راوہاڈ نے بھی میڈیا میں ایک بیان دیتے ہوئے کہا کہ شہریت ترمیم ایکٹ ، این آر سی اور این آر پی کو لیکر جگہ جگہ خواتین احتجاجی دھرنے پر بیٹھی ہوئی ہیں جس میں کافی بھیڑ اکٹھا ہورہی ہے لہذا اس بیماری کے خدشہ کے سبب احتجاجی دھرنا ملتوی کردیا جائے ۔اسی کے ساتھ ہی کابینی وزیر نے یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ مہاراشٹر میں نیا این پی آر لاگو نہیں ہوگا پرانہ والا ہی این پی آر نافذ کیا جائے گا ۔ اس کا آپ اطمینان رکھیں ۔ اوہاڈ کے اس بیان کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے ۔ واضح ہو کہ جتیند راوہاڈ کا اسی طرح کا بیان اس سے قبل بھی جلسہ عام کے ذریعہ آچکا ہے کہ مہاراشٹر میں این پی آر نہیں بلکہ قدیم مردم شماری ہی ہوگی ۔ اس طرح مہاراشٹر کابینی کے وزیر نے کہا مہاراشٹر میں ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں میں بھی رکن ہوں بغیر آپ سے پوچھے مہاراشٹر حکومت کوئی قدم نہیں اٹھائی گی اس بات کا یقین رکھیں اور جو بھیڑ اکٹھا ہورہی ہے اس سے جو خطرہ لاحق ہوا ہے اس سے بچنے کی ضرورت ہے اور اسی لئے ہمیں اپنا احتجاج ملتوی کرنے میں ہی بہتر ہوگا ۔اس طرح کی اپیل اور اعلان جتندر اوہاڈ نے کیا ۔
