ویکسین بنانے والی کمپنیاں کورونا وائرس کے سامنے بے بس ہوگئی ہیں . امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں ایک درجن سے زائد بایو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے نمائندوں نے کہا ہے کہ اگر ہم مسلسل کوشش میں لگے رہیں تب بھی کورونا وائرس کے خلاف ویکسین بننے میں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگے گا۔
میسا چیوسیٹس میں واقع ماڈرنا فارما سیوٹیکل کے سربراہ اسٹیفن بینکل نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے جینیاتی بنیاد پر کام کرنے والی ایک ویکسین تیار کی ہے لیکن اس کا دوسرا مرحلہ (فیزٹو) اس سال موسمِ گرما میں شروع کیا جائے گا.امریکی سربراہ کے مشیرِ صحت اور نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف الرجی اینڈ انفیکشنز ڈیزیز کے سربراہ اینتھونی فاؤکی نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ ایک مؤثر ویکسین بنانے میں 18 ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے.
اسی ملاقات میں دیگر کئی کمپنیوں کے سرہراہ بھی شریک تھے جنہوں نے ماضی میں زکا وائرس کے خلاف اپنی ویکسین کی کامیابی سے صدرٹرمپ کو آگاہ کیا اور بتایا کہ کورونا ویکسین کا سیفٹی مطالعہ اپریل میں شروع کیا جارہا ہے. ان سب میں ماڈرنا کمپنی کی ویکسین کو ’ایم آر این اے ویکسین‘ کہا گیا ہے جس میں نینو ذرات کے اندرجینیاتی ہدایات رکھی جائیں گی اور اسے ٹیکے کی صورت میں جسم میں داخل کیا جاسکے گا. اگرچہ یہ ویکسین سازی کا نیا اور تیزرفتار طریقہ ہے لیکن اب تک اسے پوری دنیا میں کہیں بھی لائسنس نہیں ملا کیونکہ یہ ایک جدید ٹیکنالوجی ہے. یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ویکسین جاری کرنے سے قبل اسے انسانوں کے لیے ہر طرح سے محفوظ بنایا جاتا ہے تاکہ کسی مضر اثر یا انفیکشن کے بارے میں جانا جاسکے. اس عمل کے لیے ادویہ ساز اداروں کو 18 ماہ کا عرصہ درکار ہے.