کراچی تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ لوگ ایس او پیز پر عملدرآمد پر راضی نہیں ہوتے جہاں ابھی تک یہ سوال اٹھایا جا رہا ہو کہ کورونا کوئی حقیقت نہیں ہے وہاں عملدرآمد مشکل ہے، کیسز میں کمی سے لوگوں میں مزید غفلت آئی ہے۔کراچی کے بڑے شاپنگ مالز میں ماسک اور سینیٹائیزر کا استعمال عام ہے، جبکہ دیگر بازاروں میں تاجر تنظیمیں ہاتھ دھونے کے انتظامات، ماسک کے ساتھ خریداری اور خریداروں کے سماجی فاصلے کو قائم نہیں رکھ سکی ہیں۔عتیق میر کا کہنا ہے کہ شاپنگ مالز کے محدود داخلی راستے ہیں، بازار کھلی سڑکوں پر ہیں ان میں اس طرح ممکن نہیں ہے۔’ابتدائی دنوں میں دکاندار ہر بات ماننے کو تیار تھے اس کے بعد آہستہ آہستہ بھول گئے‘

سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اجتماعات

کراچی میں محرم الحرام کے ماتمی جلوسوں کے بعد کئ مذہبی جماعتوں نے بڑے بڑے اجتماعات منعقد کیے، جبکہ ایم کیو ایم، قوم پرست جماعتوں، تحریک انصاف نے بھی مختلف سیاسی مسائل پر اپنا احتجاج جاری رکھا۔

حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی سوئی گیس انتطامیہ کے خلاف احتجاج کیا اور اتوار کو بھی احتجاج کا اعلان کیا گیا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس قسم کے اجتماعات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔

اس سے قبل آغا خان یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق کراچی میں 10 میں سے نو متاثرین ’اے سیمپٹومٹک‘ ہیں یعنی جن میں کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوتی۔ غریب اور امیر آبادیوں سے لیے گئے نمونے کے مطابق جو 95 فیصد لوگ کورونا پازیٹو آئے ان میں کووڈ 19 کی علامات ہیں نہیں تھیں۔