کورونا وبا کے ساتھ بلیک فنگس نے بھی لوگوں کی فکر بڑھانی شروع کر دی ہے۔ ریاست میں میرٹھ، وارانسی، کانپور، گورکھپور اور لکھنؤ کے ساتھ ہی بریلی کے لوگ بھی اس کی زد میں ہیں۔ ماہرین کے مطابق نمی کے ذریعہ بلیک فنگس زیادہ پنپتا ہے۔ اس میں کورونا مریضوں کو مزید احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی نے بھی اس فنگس کے بارے میں الرٹ کرتے ہوئے ماہرین سے اس سلسلے میں رپورٹ مانگی ہے۔
ڈاکٹر رام منوہر لوہیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کے میڈیسین محکمہ کے ایسو سی ایٹ پروفیسر اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ وکرم سنگھ نے بتایا کہ بلیک فنگس بہت زیادہ خطرناک ہے۔ فنگس زیادہ سنگین ہونے سے شرح اموات بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ اس کے بچاؤ کے لیے مریض کو بہت زیادہ مقدار میں اسٹیرائیڈ نہ دیا جائے۔اینٹی بایوٹک کا ایپروکیئٹ استعمال ہو۔ آکسیجن کے پیوریفائر صاف ستھرے ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ ذیابیطس مریض کو اسپتال میں داخل ہوتے وقت ذیابیطس کنٹرول ہونا چاہیے۔ یہ فنگس نمی کے سبب ہوتا ہے۔ نمی والی جگہ سے انسان کے جسم میں پہنچ جاتا ہے۔ یہ ناک، آنکھ، گلا کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ اس کے بچاؤ کے لیے اینٹی فنگل دواؤں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسے سرجری سے ٹھیک کر سکتے ہیں۔ حالانکہ اس کا علاج مشکل ہے۔ یہ کورونا سے مختلف ہے۔ ناک اور آنکھ کے درمیان کے حصے میں اثر کرتا ہے۔ پھر یہ سیدھا دماغ میں اثر کرتا ہے۔
انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن (آئی ایم اے) کے سکریٹری اور سینئر چیسٹ فیزیشین ڈاکٹر وی این اگروال نے بتایا کہ میوکرمائکوسس یعنی بلیک فنگس کہا جاتا ہے۔ فنگل انفیکشن کو بڑھنے کے لیے جسم میں نمی چاہیے۔ ناک، گلا، آنکھ میں نمی زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں فنگس بڑھنے کے زیادہ امکانات رہتے ہیں۔ مرض و دواؤں کے سبب جسم میں کمزوری ہوتی ہے۔ کووڈ مریض جن پر اسٹیرائیڈ زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ وہ اس مرض کے سبب زیادہ حساس ہو گئے ہیں۔ کیونکہ یہ فنگس جسم میں پہنچ گیا تو بڑھ جاتا ہے۔ اسے وقت سے پہلے پکڑ پانا مشکل ہے۔ اگر وقت سے پکڑ آ گیا تو دوا سے ختم ہو سکتا ہے۔ دیر ہونے پر یہ آنکھ، ناک اور دماغ کو پکڑ لیتا ہے۔ جس جگہ کو پکڑتا ہے اس جگہ سے چمڑے کو کھرچ کھرچ کر نکالنا پڑتا ہے۔ بڑا آپریشن ہوتا ہے۔ آنکھوں میں زیادہ پھیلنے سے آنکھ بھی نکالنی پڑتی ہے۔ یہ فنگس ہندوستان میں پہلے زیادہ نہیں دیکھی جاتی تھی، اس لیے زیادہ بیداری نہیں تھی۔ لیکن کووڈ کے ناطے اس کے مریض بڑھے ہیں، اور اسی لیے بیداری بڑھی ہے۔ اگر کسی میں علامت دکھائی دے تو جلد ای این ٹی کے ماہرین سے ملیں۔ علاج کرائیں۔ وقت سے قبل علاج کرانے پر ٹھیک ہو سکتا ہے۔