نئی دہلی ، 13 مئی ( یواین آئی) آسام میں قومی شہریت رجسٹر (این آر سی) اتھارٹی نے 31 اگست 2019 کو شائع ہونے والے این آر سی کے مسودے میں بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی جامع اوربروقت دوبارہ ویریفیکشن کے مطالبے کے معاملے میں سپریم کورٹ سےرجوع کیا ۔
آسام میں این آر سی کے ریاستی کوآرڈینیٹر ہتیش دیو سرما نے بھی این آر سی مسودے میں ترمیم کے علاوہ آسام کی ووٹر لسٹ سے غیر قانونی رائے دہندگان کےنام ہٹانےکا مطالبہ کیا ہے۔عرضی میں سٹیزن شپ شیڈول ( رجسٹریشن آف سٹیزن اینڈ ایشو آف نیشنل آئی کارڈ ) رول 2003 کی متعلقہ دفعہ کے تحت ضمنی فہرست کے لئے بھی درخواست کی گئی ہے ۔
درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسودے میں کچھ اہم امور کو مسترد کردیا گیا تھا ، جس سے عمل میں تاخیر ہوئی ۔اس سے قبل جولائی 2019 میں بھی مرکز اور آسام حکومت نے این آر سی مسودے کی دوبارہ ویریفیکشن کے لئے عدالت عظمی میں درخواست دائر کی تھی ، لیکن عدالت میں پیش کردہ اس حلف نامہ کی بنیاد پر اسے مسترد کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ 27 فیصد ناموں کی پہلے ہی ویریفیکشن کی جا چکی ہے ۔