ناندیڑ:(ورق تازہ نیوز) ناندیڑ شہر کانگریس کمیٹی کے کارگزارصدر بالاجی چوہان نے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر کو ایک مکتوب ارسال کرتے ہوئے ناندیڑ واگھالا میونسپل کارپوریشن میں منظور شدہ معاون رکن (کوآپٹ ممبر) کا عہدہ ہندو سماج کے فرد کو دینے کا مطالبہ کیا ہے۔انکا یہ مکتوب سوشل میڈیا پرکافی وائرل ہورہا ہے۔
کچھ لوگوں نے انھیں تنقید کابھی نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ کانگریس سیکولرزم کا دم بھرنے والی پارٹی ہے اور ایسے میں انکا ایک ہندو سماج کے فرد کو کوآپٹ ممبر دینے کامطالبہ کرنا صحیح معلوم نہیں ہوتا ہے ۔بلکہ بالاجی چوہان کی ذہنیت کی عکاسی ضرور کرتا ہے کہ وہ کس طرح کی سوچ رکھتے ہیں ۔یہ مکتوب مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہربھجن دادا سپکال کے نام تحریر کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں ناندیڑ واگھالا شہر میونسپل کارپوریشن میں پہلی مرتبہ کوئی ہندو کارپوریٹر منتخب نہیں ہوا ہے، جس کے باعث ہندو سماج کی نمائندگی متاثر ہوئی ہے۔
بالاجی چوہان نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ ضلع پریشد انتخابات کے تناظر میں بہتر سیاسی نتائج کے لیے ہندو سماج سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کو میونسپل کارپوریشن میں منظور شدہ رکن مقرر کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن افراد کو میونسپل کارپوریشن کا ٹکٹ دیاگیاتھا اور وہ انتخاب ہار چکے ہیں، انہیں منظور شدہ رکن کے طور پر مقرر نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عہدیداران کے قریبی رشتہ داروں کو بھی اس تقرری میں شامل نہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
مکتوب کے آخر میں بالاجی چوہان نے پارٹی کے سینئر، وفادار اور دیانتدار کارکن کو ہی اس عہدے پر نامزد کرنے کی گزارش کی ہے۔ یہ خط 11 فروری 2026 کو جاری کیا گیا ہے اور اس پر بالاجی چوہان کے دستخط موجود ہیں۔
