ممبئی:گزشتہ چند ماہ سے گووندا اپنی نجی زندگی کے باعث خبروں میں ہیں۔ ایک جانب ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کی جانب سے مبینہ طور پر ازدواجی زندگی سے متعلق سنجیدہ الزامات سامنے آئے، تو دوسری طرف اداکار کے مالی بحران اور دیوالیہ ہونے کی قیاس آرائیاں بھی زور پکڑنے لگیں۔ بعض حلقوں نے یہاں تک کہنا شروع کر دیا کہ گووندا کا زوال شروع ہو چکا ہے۔
ان خبروں کے پس منظر میں ونئے آنند نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گووندا آج بھی سپر اسٹار ہیں اور جہاں کھڑے ہو جائیں، وہاں باآسانی 25 سے 30 لاکھ روپے معاوضہ حاصل کر لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے گووندا کو مفلس قرار دیا ہے، وہ حقیقت سے ناواقف ہیں۔
ونئے آنند کے مطابق، “لوگ لکھ رہے ہیں کہ گووندا سڑک پر آ گئے ہیں، ان کے ساتھ یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ آخر آپ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں؟ وہ نوّے کی دہائی کے سپر اسٹار رہے ہیں اور آج بھی لاکھوں کماتے ہیں۔ جب اندھیری کے لوکھنڈوالا علاقے میں فلیٹ کی قیمت 12 سے 13 لاکھ روپے تھی، اُس وقت گووندا ایک فلم کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضہ لیتے تھے۔ ایسے میں اُن کا دیوالیہ ہونا کیسے ممکن ہے؟”
انہوں نے مزید کہا کہ گووندا نے محض پانچ فلموں سے جتنی کمائی کی، شاید ہی کسی اور نے کی ہو۔ ونئے آنند نے میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض کہانیاں محض تشہیر کے لیے گھڑی جاتی ہیں۔ “سوشل میڈیا کھولو تو ہر طرف گووندا ہی نظر آتے ہیں۔ یہ بھی ایک طرح کی اسٹارڈم ہے،” انہوں نے کہا۔
اس سے قبل گووندا کے مینیجر ششی سنہا بھی دیوالیہ ہونے کی خبروں کی تردید کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی تقریبات میں شرکت، اسکولوں میں ڈانس پرفارمنس یا ٹیکسی سے سفر کرنے کا مطلب مالی تنگی نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گووندا کے پاس ایک نہیں بلکہ کئی گاڑیاں موجود ہیں اور وہ اب بھی اپنے اہلِ خانہ کی مکمل کفالت کر رہے ہیں۔
یوں گووندا کے قریبی ذرائع نے دیوالیہ پن سے متعلق تمام افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں محض بے بنیاد قیاس آرائیاں قرار دیا ہے۔