کم سن بچے کا خوف وتقوی

خلافت عباسیہ میں قبیله شیبان کا ایک آدمی بادشاہ کے پاس ایک نہایت ہی راز دارانہ کار منصبی انجام دیا کرتا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ وہ روزانہ صبح سے دو پہر تک بازاروں میں گھوم پھر کر لوگوں میں ہونے والی چہ میگوئیوں کی رپورٹ تیار کر کے اس پر اپنی مہر لگاتا اور اسے اپنے افسر کے پاس بھیجتا، پھر وہ افسر ان رپورٹوں کو ترتیب دے کر بادشاہ کے روبرو پیش کرتا۔ ایسا اس لیے کیا جاتا تاکہ ملک کے اندر امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور عامة الناس کو درپیش خطروں سے نمٹا جا سکے۔

ایک مرتبہ رپورٹ لکھنے والا یہ آدمی اپنی کسی سخت ضرورت کے پیش نظر مشغول ہوگیا اور بازار جا کر رپورٹ نہ لکھ سکا۔ بعد میں بازار میں ہونے والی چہ میگوئیوں اور لوگوں کی سرگرمیوں کے متعلق جو کچھ سنا، آ کر ضبط تحریر میں لایا اور سنی سنائی باتوں کی بنیاد پر رپورٹ تیار کر کے اس پر اپنی مہر لگا دی۔ پھر اپنے کمسن بھتیجے کو آواز دی جس کا نام احمد تھا اور اس سے پوچھا: اے احمد! کیا تجھے اس افسر کا دفتر معلوم ہے جو روزانہ مجھ سے رپورٹ وصول کرتا ہے؟

بچے نے جواب دیا: ہاں، مجھے معلوم ہے۔

چچا نے کہا: آج میری یہ رپورٹ لے جا کر افسر کے پاس جمع کرا دو، میں نے اس پر مہر ثبت کر دی ہے اور افسر سے کہہ دینا کہ میرے چچا اچانک کسی مصروفیت میں پڑ گئے ہیں ، اس لیے آج وہ حاضر نہیں ہو سکے ، لہذا انھوں نے یہ رپورٹ میرے ہاتھ بھیجی ہے۔

بچے نے اپنے چچا سے رپورٹ لی اور شہر کے بیچ والی سڑک سے امن و امان کے افسر کے دفتر کی طرف روانہ ہو گیا۔ لیکن قبل اس کے کہ وہ اپنے چچا کی رپورٹ کے اوراق افسر کی خدمت میں پیش کرتا، اسے یاد آیا کہ چپا نے رپورٹ کے اوراق بغیر تاریخ لکھے ہی حوالے کر دیے ہیں؛ چنانچہ اس نے خود تصرف کر کے اس میں تاریخ درج کر دی ……….. ابھی وہ بچہ آگے کی طرف قدم بڑھا رہا تھا، کہ اس کا گزر راستے میں ایک نہر کے پل پر سے ہوا۔ بچے کے ذہن و دماغ میں خود بخود یہ باتیں آنے لگیں:

"اے احمد ! تو اگر چہ ایک چھوٹا بچہ ہے۔ لیکن تجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تیرے چچا کا یہ فعل شرعا کیسا ہے؟ تیرا چچا بازار میں ہونے والی لوگوں کی چہ میگوئیاں اور ان کے کاموں کی تفصیل لکھ کر افسر کو پہنچاتا ہے جو کہ شریعت کی نگاہ میں ایک حرام کام ہے، کیونکہ یہ بھی جاسوسی کی ایک قسم ہے اور جاسوسی سے متعلق اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: ولا تجسّسوا ” اور جاسوی مت کیا کرو؟ (الحجرات : 12)

لہٰذا اے احمد! تو بھی ایک ممنوع فعل کا ارتکاب کر رہا ہے اور اس کام میں دوسرے کا تعاون کر رہا ہے جس کام سے قرآن نے روکا ہے ۔“
بچے کے دل میں آنے والی باتوں نے اس کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اس نے فورا اپنے چچا کی دی ہوئی رپورٹ نہر میں پھینک دی اور واپس اپنے گھر آ گیا۔

جب امن و امان کے افسر کے پاس رپورٹ پہنچنے میں تاخیر ہوئی تو اس نے اپنے آدمیوں کو اپنے رپورٹر کی خدمت میں بھیجا کہ آخر بات کیا ہے کہ رپورٹ نہیں پہونچ سکی۔ جب افسر کے کارندے رپورٹر کے پاس پہنچے تو اس نے انھیں بتایا کہ میں نے اپنے احمد نامی بھتیجے کے ذریعے رپورٹ افسر کے پاس بھیج دی تھی۔ یہ سن کر افسر کے کارندے پچے کے پاس پہنچے اور اس سے پوچھا: تمہارے چپا نے جو رپورٹ افسر تک پہنچانے کے لیے دی تھی ، وہ کہاں ہے؟

بچے نے جواب دیا: وہ تو میں نے نہر میں پھینک دی۔

یہ سنتے ہی افسر کے کارندے تعجب اور خوف سے چیختے ہوۓ بول اٹھے: کیوں؟ کس وجہ سے تم نے رپورٹ نہر میں پھینک دی…. کیا بات ہے؟

بچے نے جواب دیا کیونکہ یہ فعل شرعا حرام ہے، یہ رپورٹ جاسوسی کی ایک قسم ہے جسے شریعت اسلامیہ نے ممنوع قرار دیا ہے۔ اس لیے میں نہیں چاہتا کہ اس ناجائز فعل پر میری طرف سے کوئی تعاون ہو۔

کارندوں نے بچے کا جواب سن کر فورا افسر کے پاس یہ رپورٹ پہنچائی ۔ افسر نے جب بچے کے بارے میں یہ کچھ سنا تو بچے کی بات اس کے دل کو لگی اور بول اٹھا: یہ بچہ اتنا پرہیزگار ہے۔ پھر ہمیں کس قدر پرہیز گار ہونے کی ضرورت ہے، ہم کہاں ہیں؟

پھر اس دن سے ان کی نگاہیں اس بچے پر جم گئیں… اور انھیں ایسا محسوس ہونے لگا جیسے وہ بچے نہیں بلکہ کسی جوان کو دیکھ رہے ہوں۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ بچہ کون تھا؟ ………………. یہ بچہ وہی نامی گرامی شخصیت ہے جس کو پوری دنیا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔ جومحدث کبیر اور فقیہ عظیم ہیں جن کو امام الورع ‘( تقوی کا امام ) کہا جاتا ہے، جنہوں نے خلیفہ مامون کے دور حکومت میں ابتلاء و آزمائش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور عقیدہ اسلام کی طرف سے کھل کر دفاع کیا حق بات کی آواز بلند کرنے میں ہر مصیبت برداشت کی اور انتہائی سخت مصیبت کی حالت میں بھی قرآن و حدیث سے ہٹ کر اللہ کے دین میں ایک کلمہ کہنا گوارا نہیں کیا……….. جی ہاں ! یہ بچہ وہی ہے جو امام احمد بن حنبل رحمة الله عليه کے نام سے مشہور ہوا جس کی زندگی کے در پے ہونے والے تمام کے تمام مٹ گئے ، کوئی ان کا اچھے طریقے سے نام تک لینے والا نہیں لیکن امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ‘ کا نام آتے ہی ایک اسلامی ہیرو کا تصور آج بھی لوگوں کے دل و دماغ پر چھا جاتا ہے یہ بچہ آگے چل کر ایک عظیم محدث اور امام بنا لیکن بچپن ہی سے حسب لیاقت ہر بات کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر رکھنا اس پرعمل کرنا اس کی شان تھی……..
( مجلة "النور‘‘ عدد (145) شوال 1417 ه -)

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading