ممبئی: ممبئی کانگریس کے ترجمان اور میڈیا کوآرڈینیٹر سریش چندر راج ہنس نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کی جانب سے کفایت شعاری کے نام پر دو پہیہ گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ ودھان بھون پہنچنے کے معاملے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے محض دکھاوا اور ریلس کی سیاست قرار دیا ہے۔
سریش چندر راج ہنس نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ وزیر اعلیٰ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ حکومت کفایت شعاری پر عمل کر رہی ہے، اسی لیے چار پہیہ گاڑیوں کے بجائے دو پہیہ گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ ودھان بھون پہنچے، لیکن جس موٹر سائیکل کا استعمال کیا گیا اس کا پی یو سی سرٹیفکیٹ 2025 میں ہی ختم ہوچکا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اب یہ کہا جا رہا ہے کہ آخری لمحے میں پی یو سی کے لیے درخواست دی گئی، تو پھر 2025 سے اب تک حکومت اور متعلقہ افراد کیا کر رہے تھے؟ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے جاری ویڈیو پوسٹ میں گاڑی کا نمبر پلیٹ بھی دھندلا دکھایا گیا ہے۔ راج ہنس نے سوال کیا کہ جب ریاست کا وزیر اعلیٰ کسی گاڑی کا استعمال کرتا ہے تو کیا اس گاڑی کے تمام دستاویزات مکمل اور اپ ڈیٹ نہیں ہونے چاہئیں؟
سریش چندر راج ہنس نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ آخر دو پہیہ گاڑیوں کے قافلے سے کتنی پٹرول بچت ہونے والی ہے؟ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ یہ پوری مشق صرف سوشل میڈیا ریلس اور تشہیر کے لیے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اب وزیر اعلیٰ کے حامی اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا وزیر اعظم کی اپیل پر عمل نہیں کرنا چاہیے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلے وزیر اعظم کو خود اپنے عمل سے مثال قائم کرنی چاہیے۔ کانگریس ترجمان نے مزید کہا کہ جب ملک بحرانوں سے گزر رہا تھا تب حکمراں خاموش تھے، لیکن اب عوام کو نصیحتیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پر سوال اٹھانے سے پہلے حکومت اور اس کے لیڈروں کو خود آئینہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
