ممبئی ،27ستمبر(یواین آئی )کشمیرہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے ، وہاں ہمیں جانے سے کوئی روک نہیں سکتا ہے اور ہم حکومت کے خلاف بالکل نہیں ہیں بس ہمیں وہاں کے حالات دیکھنے ہیں کہ مرکزی حکومت کے ذریعے آرٹیکل 370ہٹانے کے بعد سے وہاں وادی کشمیرمیں عوام کیسی زندگی گزاررہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہارعوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان نے کیا ۔جوکہ حال میںونچت بہوجن اگھاڑی سے وابستہ ہوگئے ہیں۔
آج یہاں مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس میں شمشیر خان پٹھان نے معروف صحافی عزیز برنی ،گنیش انا اور سردار ہرمیندر سنگھ خالصہ کی موجودگی میں یہ اعلان کیا کہ یہ چاروں افراد سنیچر28ستمبر کوصبح 6بجے کی فلائٹ سے براہ دہلی سری نگرروانہ ہورہے ہیں تاکہ وہاں کی صحیح صورتحال جان سکیں اور کسی قانون کی خلاف ورزی نہ ہوگی۔
شمشیر خان پٹھان نے مزید کہا کہ چونکہ وہاں پرامتناعی احکامات نافذ ہیں ،اس لیے چار لوگ ہی سری نگر روانہ ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ونچت بہوجن اگھاڑی کے صدر پرکاش امبیڈکر بھی ان کے ساتھ جانے والے تھے ،لیکن چونکہ اسمبلی الیکشن کے اعلان کے نتیجے میں انہوںنے ہمیں صورتحال کا جائزہ لینے کے کہا ہے ،لیکن حالات کی مناسبت سے پرکاش امبیڈکربعد میں کشمیرجاسکتے ہیں۔
اس موقع پر شمشیر خان پٹھان اور عزیز برنی نے مشترکہ طور پر پریس کانفرنس میں سوال اٹھایا کہ کیا کشمیر ہندوستان سے باہر ہے جو وہاں پر اس طرح فوج اور دیگر سرکاری ایجنسیاں اور فورسیس تعینات کی گئی ہیں اور جس کی وجہ سے عام انسان دو وقت کی روٹی نہیں حاصل کر پا رہا ہے۔ حکومت کو اس تعلق سے بہت تیزی سے فیصلہ لے کر وہاں پر حالات نارمل کرنا چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم صرف کشمیری مسلمانوں کی بات نہیں کر رہے ہیں کہ بلکہ تمام کشمیری پریشانی کاشکار ہیں اور ہم بلا مذہب وملت پورے کشمیریوں کی بات کر رہے ہیں۔آج دو مہینہ کا عرصہ بیت جانے کے باوجود وہاں کی زندگی معمول کے مطابق نہیں ہوسکی ہے ،جبکہ ذرائع ابلاغ خاموش تماشائی بناہوا ۔اور اسی وجہ سے ہم کشمیر جا رہے ہیں تاکہ جائے واقہ پر پہنچ کر حالات کا ازخود جائزہ لیں۔کشمیری لیڈران کو غلط طریقے سے قید کیوں کر دیا گیا ہے۔جبکہ عام کشمیریوں کو بھی قید وبند کی زندگی گزارنا پڑرہی ہے۔
شمشیرخان کہا کہ ہمیں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ وہاں پر طبی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے کئی لوگوں کی جان چلی گئی اور پورے کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے لوگ باہر نہیں نکل سکتے تو وہ کھا پی کیا رہے ہیں۔
شمشیر خان پٹھان سے ایک سوال کہ آپ وہاں محصورشہریوںکوکیا سہولیات پہنچائیں گے تواس پر انہوں نے کہا کہ ابھی ہم جا رہے ہیں اور ہم یہ واضح کر دیں کہ ہم سرکار کے بالکل خلاف نہیں ہیں، لیکن حکومت نے جب آرٹیکل 370 ہٹایا ہے تو وہاں کے حالات کو نارمل کرے اور گھروں میں بند والی زندگی سے کشمیریوں کو آزادی دے تا کہ لوگ باہر نکل سکیں کچھ کمائیں اور اپنا گھر چلائیں۔
انہوں نے کہا کہ مراٹھی اخبار دینک بھاسکر میں شائع ایک خبر کے مطابق 13ہزار کشمیری نوجوان غائب ہیں تو حکومت کو اس بارے میں جواب دے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے ۔ کیونکہ اگر کشمیر ہمارا اٹوٹ حصہ ہے اورسارے کشمیری ہمارے بھائی ہیں،تو انہیں قید وبند کی زندگی کیوں گزارنا پڑرہی ہے۔ عزیز برنی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت اس معاملہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کررہی ہے اور ذرائع ابلاغ کی کشمیرکے معاملہ سے عدم دلچسپی افسوس ناک ہے۔