کشمیر میں آر ایس ایس کی ارتدادی مہم

روز نامہ اعتماد حیدر آباد نے بروز جمعہ 29 مارچ 2024 مطابق 18 رمضان المبارک 1445 کو یہ رپورٹ شائع کی ہے ، جس سے آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ خدا کرے کہ یہ خبر غلط ہو ؛ لیکن کیا کریں حالات و ماحول اس کی صریح تکذیب نہیں کرتے۔ بہرحال ، اعتماد نے لکھا ہے :

"آر ایس ایس کی جانب سے جموں و کشمیر میں اسکولوں کا جال پھیلاتے ہوئے کشمیری بچوں کی ذہن سازی کی جارہی ہے۔ آر ایس ایس کی معاون تنظیم سیوا بھارتی کی جانب سے ذرائع ابلاغ کی اطلاع کے مطابق بارہ سو سے زیادہ مدرسے چلائے جارہے ہیں ، جن میں قرآن مجید کی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو ہندوستانی بننے کا بھی سبق پڑھایا جارہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کشمیر کے مسلم بچوں کو کشمیریت اور بھارتیہ کے حقیقی معنی سمجھائے جائیں گے۔ ایکل الیہ ابھیان پراجکٹ وادی میں کامیابی سے عمل میں لایا جارہا ہے۔

ان اسکولوں میں 95 فی صد مسلم بچے ہیں جن کو ہندوؤں کی تہذیب اور تمدن کو ہندوستانی بتایا جارہا ہے۔ وادی کشمیر کے دس اضلاع میں ایسے بارہ سو (1200) اسکول پھیلے ہوئے ہیں ، جب کہ بارہمولہ میں ایسے ایک سو اسی (180) اسکول قائم ہیں، جہاں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے ہوتے ہیں۔ ایک سال کے دوران ان اسکولوں کی تعداد میں دو گنا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔ کچھ سال قبل تک بھی کشمیر میں آر ایس ایس سے وابستہ کسی ادارے کے قیام کا تصور بھی محال تھا ؛ تاہم اب ایسے اسکولوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسے ادارے کس طرح سے وہاں اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹوں میں ان اسکولوں کے ذمہ داروں اور اساتذہ کی معلومات کو مخفی رکھا گیا ہے۔ وادی میں آرایس ایس کے اسکولوں کے پھیلاؤ کی اس اطلاع سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کشمیر میں ایک مخصوص تہذیب اور تمدن کو پھیلانے اور بچوں کی ذہن سازی کرنے کے لیے بنیاد تیار کی جارہی ہے”۔

اندازہ لگائیے ، جب معصوم ، کم عمر اور کچے ذہن بچوں کے سامنے ہندوؤں کی کفریہ و شرکیہ تہذیب و تمدن کو ہندوستانی اور اصلی بتا کر اس کی تعریفیں کی جائیں گی ، تو بچوں کے ذہن پر کیا اثرات پڑیں گے! بچے تو ذہن کے کچے ہوتے ہیں۔ ان کو جو کچھ پڑھایا اور بتایا جائے گا ، وہ وہی کچھ صحیح مان لیں گے ، اور اپنے ذہن و دماغ میں اتار لیں گے۔ اور چھوٹی موٹی نہیں ، 95 فی صد تعداد ان طلبہ میں مسلم بچوں کی بتائی جا رہی ہے۔ یہ انتہائی تشویش ناک بات ہے۔ سب سے بڑے قصور وار والدین ہیں ، جو اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں ڈالے ہوئے ہیں۔ کیا انہیں تعلیم دلانے سے پہلے معلم کی حقیقت اور ان کے عقیدہ و عمل کو نہیں دیکھنا اور جاننا چاہیے ؟ یہ مسلمانوں کی دین بیزاری یا غفلت و لاپروائی ہے۔
وادی کی سربرآوردہ اور دینی و مذہبی شخصیات کو آگے آنا چاہیے ، اور اس سلسلے میں غور و خوض کر کے مسئلے کا حل نکالنا چاہیے!

خالد سیف اللہ صدیقی

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading