سمندر کی گہرائیوں میں موجود معدنی خزانے کے حصول کی دوڑ جس کے باعث عالمی طاقتوں میں کشیدگی بڑھ رہی ہے

دُنیا کی تاریخ زمین اور سمندروں پر ہونے والے تنازعات سے بھری پڑی ہے لیکن اب یہ تنازعات شاید سطح سمندر سے نکل کر اس کی عمیق گہرائی میں جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

سطح سمندر سے ہزاروں میٹر نیچے ایسے معدنیاتی وسائل کے بڑے ذخیرے موجود ہیں جس کی مدد سے ناصرف دُنیا میں توانائی کا شعبہ ترقی کر سکتا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ اِن معدنیات کا استعمال عسکری ساز و سامان اور ہتھیار بنانے میں بھی کیا جا سکتا ہے۔

سمندر کی گہرائیوں میں پائی جانے والی یہ معدنیات تاحال کسی ملک نے نہیں نکالی ہیں، تاہم چین، انڈیا اور روس کی نجی اور سرکاری ایجنسیاں اب اِن معدنیات کو حاصل کرنے کی دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

متعدد ممالک اور ایجنسیوں نے اقوامِ متحدہ سے منسلک ادارے ’انٹرنیشنل سی بیڈ اتھارٹی‘ سے سمندر میں ان معدنیات کی تلاش کے لیے لائسنس حاصل کر لیے ہیں۔

ان معدنیات کے حوالے سے ان تمام ممالک اور کمپنیوں کی نظریں شمالی بحیرہ الکاہل کے کلیرین کلپرٹن زون، شمالی بحیرہ اوقیانوس کے مڈ اٹلانٹک رِج اور بحیرہ ہند پر ہیں۔

امریکہ بھی اپنی حدود میں موجود سمندری علاقے سے یہ معدنیات نکالنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے کنونشن پر دستخط نہیں کیے ہیں اس لیے ان کی جانب سے اپنے ملک کی حدود میں موجود سمندر سے آگے نکل کر بین الاقوامی سمندری حدود میں معدنیات کی تلاش کی کوشش نہیں کی جا رہی۔

’انٹرنیشنل سی بیڈ اتھارٹی‘ کی جانب سے اب تک سمندر میں معدنیات کی تلاش کے 31 اجازت نامے جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 17 اجازت نامے کلیرین کلپرٹن زون، جو کہ ہوائی اور میکسیکو کے درمیان واقع ہے، میں معدنیات کی تلاش کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔

کلیرین کلپرٹن زون میں ’پولی میٹیلک‘ کے ذخائر موجود ہیں جو کہ آلو کی شکل کا ایک پتھر ہے اور اس میں منگنیز، کوبالٹ، نِکل اور تانبہ وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔

ان معدنیات میں موجود لیتھیم اور گریفائٹ کا استعمال الیکٹرک گاڑیاں، سولر پینلز، پن چکیوں اور بیٹریاں بنانے میں ہوتا ہے۔
ان معدنیات کی اتنی مانگ کیوں ہے؟
دنیا میں گہرے پانیوں میں موجود معدنیاتی ذخائر میں دلچسپی اُس وقت بڑھی جب یہ بات سامنے آئے کہ ان کا استعمال دنیا کو ماحول دوست توانائی کی طرف منتقلی میں مدد دے سکتا ہے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کو عام گاڑیوں کے مقابلہ میں ان معدنیات کی ضرورت چھ گُنا زیادہ ہوتی ہے، جبکہ پن چکیوں کو بنانے میں جس ٹیکنالوجی کا استعمال ہوتا ہے اس کی تیاری کے لیے بھی یہ معدنیات درکار ہیں۔

ورلڈ بینک کے ایک اندازے کے مطابق 2050 تک دُنیا کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سمندر میں موجود معدنیاتی ذخائر کو نکالنے کی کوششوں میں پانچ گُنا اضافہ کرنا پڑے گا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ دُنیا کی توانائی کی ضروریات کو پورے کرنے کے لیے سمندر کی تہہ سے تقریباً تین ارب ٹن معدنیات اور دیگر دھاتیں نکالنی ہوں گی۔

زیرِ سمندر کان کُنی کے حامی افراد کا کہنا ہے کہ زمین پر روایتی کان کُنی کے طریقوں سے دُنیا کی ضروریات پوری نہیں ہوں گی کیونکہ سطح زمین پر موجود معدنیات کا معیار دن بدن گِرتا جا رہا ہے۔ لیکن زیرِسمندر معدنیات کی تلاش سے ماحولیاتی آلودگی پھیلنے اور مختلف نئے تنازعات کے پیدا ہونے کے خطرات بھی موجود ہیں۔

اس وقت دنیا میں سطح زمین پر موجود معدنیات نکالنے والے ممالک میں آسٹریلیا، چلی اور چین شامل ہیں۔

آسٹریلیا بڑے پیمانے پر لیتھیم، چلی تانبہ اور چین گریفائٹ پیدا کرتا ہے۔ گریفائٹ کا استعمال سمارٹ فونز اور کمپیوٹرز بنانے میں ہوتا ہے۔

جبکہ کانگو، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ بھی کوبالٹ، نکل، پلاٹینم اور اریڈیم کی بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑے کھلاڑی تصور کیے جاتے ہیں۔.
چین کی سمندر میں بڑھتی ہوئی دلچسپی
چین اپنی زمینی حدود سے باہر بھی ان معدنی ذخائر کو تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے جس کے سبب اس کے علاقائی حریفوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ اب چین نے زیرِ سمندر بھی معدنیات کی تلاش پر نظریں مرکوز کر رکھی ہیں۔

’انٹرنیشنل سی بیڈ اتھارٹی‘ کے مطابق چین کے پاس زیرِ سمندر معدنیات کی تلاش کے لیے پانچ لائسنس موجود ہیں جبکہ روس کے پاس چار لائسنس ہیں۔

انڈیا ’انٹرنیشنل سی بیڈ اتھارٹی‘ سے دو لائسنس حاصل کر چکا ہے جبکہ اس کی جانب سے مزید دو لائسنس حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

امریکہ میں واقع ادارے ’ہوریزن ایڈوائزری‘ کے شریک بانی ناتھن پکارسک اس حوالے سے کہتے ہیں کہ ’ان معدنیات کے حصول کی کوششوں میں اضافے کے سبب علاقائی تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘

بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی کے مطابق چین دہائیوں سے ایسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے جس سے ان معدنیات کو حاصل کرنے اور ان کو استعمال شدہ بنانے میں اسے کافی مدد مل رہی ہے۔ چین کے پاس اس وقت اچھے معیار کی گریفائٹ اور ڈسپروزیم کی 100 فیصد، کوبالٹ کی 70 فیصد اور لیتھیم اور منگنیز کی 60 فیصد سپلائی موجود ہے۔

اس کے علاوہ چین نے ان معدنیات اور ان کو بہتر بنانے والی ٹیکنالوجی کی برآمدات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد چین کی قومی سلامتی اور مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

اس حوالے سے امریکہ کی انرجی سیکریٹری جینیفر گرانہوم نے اگست 2023 میں ایک اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ’ہمارا مقابلہ ایک ایسی بڑی طاقت سے ساتھ ہے جو کہ سیاسی طاقت کے حصول کے لیے مارکیٹ کو عدم توازن کا شکار کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔‘

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading